خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 128
خطبات طاہر جلد 17 128 خطبہ جمعہ 20 فروری1998ء آپ کے اندر پاک تبدیلی نہیں کرتا، یہ مراد ہے کہ اس صورت میں ان کی سستی آپ کو غافل کر دے گی اور امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے بہت سے ایسے بزرگی کے بہت دیکھے ہیں جن کو بہت لوگ چاہتے اور ان کی عظمت کرتے ہیں مگر اپنی کسی نفسانی خواہش، اپنی کسی ذاتی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر اور مثالیں یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی دعا سے ہمارا یہ کام ہو گیا، ان کی دعا سے ہمارا یہ کام ہو گیا۔ایسا کام ہونا جو آپ کو اللہ سے غافل رکھے اور اپنی حالت میں پاک تبدیلی کی طرف توجہ نہ دلائے یہ وہ کاہلی اور ستی ہے کہ بظاہر ایک نیک آدمی کو آپ دیکھ رہے ہیں لیکن آپ کے اندر وہ پاک تبدیلی نہیں پیدا کرتا۔اس کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ اس کا عزت اور احترام سے ذکر کرتے ہیں اور یہی کافی ہے کہ آپ یہ مشہور کریں کہ اس کی دعا سے یہ کچھ ہو گیا۔اب میرے تعلق میں بھی جب آپ یہ مشہور کرتے ہیں کہ اس کی دعا سئے تو مجھے بڑا ڈر لگتا ہے۔میں تو ہمیشہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ میری دعا سے اگر کچھ ہوا ہے اور آپ خدا کے قریب نہیں آئے جس نے آپ کو عطا کیا ہے تو آپ کی جہالت ہے اور آپ کی یہ تعریف میرے لئے مذمت ہے اور مجھے خوف دلانے والی ہے، خوشی دلانے والی نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان تحریروں کو غور سے دیکھیں ” اور اس کو کاہلی کی جرات نہ دلا دے۔“ جب لوگ ایسے لوگوں پر اپنا بوجھ ڈالتے ہیں کہ وہ دعا کر دیں گے ہم ٹھیک ہو جائیں گے ان کو لازماً کاہلی کی جرات ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں ہمارے لئے دعا کرنے والا موجود ہے ہمیں اپنے اعمال کو نیک بنانے کی ضرورت کیا ہے۔وہ کھلے لفظوں میں کہیں نہ کہیں لیکن ان کی زندگی آپ کو دکھا دے گی وہ تذکرے تو کریں گے کہ فلاں کی دعا سے یہ ہو گیا، فلاں کی دعا سے یہ ہو گیا۔ہمیں کینیڈا بیٹھے یہ معاملہ حل ہو گیا ، فلاں انٹرویو میں کامیاب ہو گئے لیکن اپنے نفس پر غور کریں کیا اللہ کے انٹرویو میں بھی وہ کامیاب ہوئے ہیں کہ نہیں ؟ کیا ان کے اندر اللہ کے ان احسانات نے پاک تبدیلی پیدا کی ہے کہ نہیں ؟ اگر نہیں کی تو یہ محض لاف و گزاف ہے۔پس اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کولاف و گزاف کی زندگی سے نجات بخشے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نیکیوں کی گہرائی میں اتر کر تعریف فرماتے ہیں اس تعریف کو سمجھ کر اپنے اندر پاک تبدیلی کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین۔