خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 130
خطبات طاہر جلد 17 130 خطبہ جمعہ 27 فروری 1998ء مشكورا پس ایسے لوگ ہیں جن کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔مشکور سے مراد یہاں یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ لفظوں میں ان کا شکریہ ادا کر رہا ہے، مشکور سے مراد وہ نعمتیں ہیں ، وہ کوششیں ہیں جو قدر کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔میں سمجھتا ہوں کہ خطبہ کے آغاز ہی میں ان کے کچھ تفسیری پہلو بھی بیان کر دوں تو پھر تسلسل ٹوٹے گا نہیں اس لئے بجائے محض ترجمہ آپ کے سامنے رکھنے کے میں اب اس کو ذرا تفصیل سے بیان کر رہا ہوں۔كُلا تمدُّ هَؤُلَاءِ وَهُؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبَّكَ ہم ان میں سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ان لوگوں کی بھی اور اُن لوگوں کی بھی۔مِنْ عَطَاء رَبَّكَ تیرے رب کی عطا کے نتیجہ میں۔یہ تیرے رب کی ایک خاص عطا ہے جس کی وجہ سے ہم ، جو لوگ کوشش کرتے ہیں ، ان کی مدد کرتے ہیں۔وَمَا كَانَ عَطَاء رَبِّكَ مَحْظُورًا اور تیرے رب کی عطا ایسی ہے جسے روکا نہیں جاسکتا۔جب وہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں کسی پر اپنی رحمت فرماؤں گا ، کوئی عطا کروں گا تو کوئی اس کے رستہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔دیکھ لیں کس طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض دوسروں پر فضیلت دی۔انظر كيف فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ اور آخرت أَكْبَرُ دَرَجَتِ درجات کے لحاظ سے بھی بہت بڑی ہے۔وَ اكْبَرُ تَفْضِيلا اور فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت بڑی ہے۔ان آیات میں آغاز میں جو سعی کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ ایک ہی گروہ معلوم ہوتا ہے لیکن آخر پر جو سعی کے ذکر کے تعلق میں مزید باتیں بیان فرمائیں ان میں دو گروہ دکھائی دینے لگے ہیں۔وَمَنْ اَرَادَ الْأَخِرَةَ وَ سَعَى لَهَا سَعْيَهَا جو کوئی بھی آخرت کا ارادہ کرے یا جو لوگ بھی آخرت کا ارادہ کریں اور اس میں وہ اپنی کوششوں کو محو کر دیں ایسی صورت میں ایسے لوگ جو مومن ہوں یا وہ من کا لفظ مومن سے تعلق رکھتا ہے اگر من جمع میں ہے تو مومن کا ترجمہ بھی واحد میں کیا جائے گا لیکن آخر پر جو نتیجہ نکالا جا رہا ہے وہ جمع میں ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ من کے اندر یہ مفہوم ہے ہر وہ شخص جو ایسا کرے اور ہر وہ شخص چونکہ سوسائٹی میں کثرت کے ساتھ پایا جاتا ہے تو اس کی کثرت کو مد نظر رکھتے ہوئے آخر پر فرمایا فَأُولَبِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مشكورا بظاہر پہلے واحد کا ذکر چل رہا تھا مگر اس آیت کے آخری حصہ نے ثابت کر دیا کہ واحد مراد نہیں ہے۔ایسے تمام لوگ مراد ہیں اور سوسائٹی کے وہ حصے جو اس پر عمل پیرا ہوں ان سب کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔اب یہ ایک ہی گروہ ہے جس کا تسلسل