خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 89
خطبات طاہر جلد 17 89 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء من ذالك ٹیڑھی تھی یا غصہ دلانے والی تھی اس لئے جو اپنے پرائے تھے وہ دشمن ہو گئے۔حق سے باز نہیں آئے۔حق بات کہنے سے باز نہیں آئے لیکن جب بھی حق بات کہی تو انتہائی خوبصورت تھی ، احسن قول تھی۔چنانچہ تبلیغ میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ایسی بات کرو۔بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (الانعام: 153) کہ تمہاری وجہ سے کوئی ٹھو کر نہ کھائے بات کا حسن کھول کر بیان کر و۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی سالی کا یہ تم کی تبلیغ میں ساری زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ آپ بیان نہیں کر سکتے جس میں آپ سی ایم کے طرز بیان کی وجہ سے تلخی ہوئی ہو۔حق بات ہمیشہ کہی مگر بہت ہی پیارے اور نرم انداز میں۔آپ نے ایک دم بھر کے لئے کبھی کسی کی پرواہ نہیں کی یہاں تک کہ جب ابوطالب آپ کے چانے لوگوں کی شکایتوں سے تنگ آکر کہا۔اس وقت بھی آپ نے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں اس کے اظہار سے نہیں رک سکتا۔آپ کا اختیار ہے، میراساتھ دیں 66 یا نہ دیں۔" الحکم جلد 5 نمبر 11 ، صفحہ: 4 مؤرخہ 25 مارچ 1901ء) اس سارے دور میں جب تک ابو طالب نے یہ بات نہیں کی صاف ظاہر ہورہا ہے کہ رسول اللہ صلی می ایستم توحید کا اظہار اس طرح فرماتے تھے کہ ابو طالب کے لئے بھی کوئی گنجائش نہیں تھی، جائز وجہ نہیں تھی کہ آپ صلی ا یہ تم کو چھوڑ کر الگ ہو جائیں۔جب آخر اس نے محسوس کیا کہ قوم میری مخالف ہو رہی ہے اور مجھے ضرور محمد الیا کہ تم کو اس طریق سے باز رکھنا ہے تو اس وقت آپ صلی لا پیام فرماتے ہیں کہ یہ خیال دل سے نکال دو کہ تمہاری وجہ سے میں حق پر قائم ہوں، تمہاری وجہ سے مجھے میرے دشمنوں سے حفاظت حاصل ہے۔میں تو یہ بات ضرور کہوں گا۔یہ ہو نہیں سکتا کہ اس بات کے اظہار سے رک جاؤں اس لئے اپنی امان اگر اٹھانی ہے تو اٹھا لو پھر دیکھو کہ خدا تم سے کیا سلوک کرتا ہے۔یہ عزم لے کر ہم نے تبلیغ کی راہ میں سفر کرنا ہے۔ہر ایسے ملک میں سفر کرنا ہے جہاں ہماری تبلیغ لوگوں کو تکلیف دیتی ہے، دکھ پہنچاتی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ سفر کرنا ہے کہ ہمارے بیان کے انداز کی غلطی سے کوئی دکھ نہ پہنچے۔ہر بات اس رنگ میں کرنے کی کوشش کریں کہ وہ جہاں تک ممکن ہو صاف اور پاک اور پیاری دکھائی دینے والی بات ہو پھر اگر دشمن اس پہ ناراض ہوتا ہے تو پھر بالکل پرواہ نہ کریں۔