خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 90 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 90

خطبات طاہر جلد 17 90 خطبہ جمعہ 6 فروری1998ء اپنے اہل و عیال کو نصیحت کرتے وقت بھی اسی سنت نبوی صلی لالی تم کو پکڑ کر بیٹھیں اور آنحضرت صلی شیا کی ستم نے اپنے اہل و عیال کو نصیحت کرتے وقت کبھی بھی اس رنگ میں نصیحت نہیں کی کہ وہ بدک جائیں اور دور بھاگ جائیں اور جب انہوں نے بات نہ مانی یعنی اس وقت ایسا مشکل کا وقت محسوس کیا کہ تھکے ہوئے تھے جیسا کہ رسول اللہ سی لیا کہ تم چاہتے تھے کہ آپ اٹھیں اور نماز کے لئے تیار ہوں ، اٹھا نہیں جارہا تھا اس وقت بھی رسول اللہ صلی یا کہ تم نے ان کے اوپر کوئی سختی نہیں کی صرف دکھ کا اظہار کیا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ساری زندگی نیکیوں کی نصیحت اسی طرح کی کہ جس نے نہیں مانا اس پر جس طرح کہ ملاں کہتے ہیں کہ تلوار اٹھاؤ اور یہ ہے اصل میں کلمہ حق کہنا، گردنیں اڑا دو ان کی جو تمہاری بات نہ مانیں، ہرگز رسول اللہ سی ایم نے یہ طریق اختیار نہیں کیا۔غم بہت محسوس کیا ہے اور یہی وہ طریق ہے جس کی طرف میں آپ کو بلا رہا ہوں۔جب دشمن آپ کی بات نہیں مانے گا تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس کے نہ ماننے کا غم محسوس کریں اور وہ غم صبر اور دعاؤں میں تبدیل ہو جائے۔اگر اس طرح ان ہتھیاروں سے لیس ہو کر آپ سفر کرتے ہیں تو یہ ہتھیار گردنیں کاٹنے والے نہیں بلکہ دل جیتنے والے ہتھیار ہیں اور یہ وہی ہتھیار ہیں جو گھر میں استعمال ہوں گے تو باہر استعمال کرنے کی عادت پڑے گی۔اگر گھر میں ہی آپ کو ان کے استعمال کا سلیقہ نہیں آتا تو دروازہ کھول کر جب گلیوں میں نکلیں گے تو اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ دوستوں سے آپ اس طرح حسن سلوک کریں گے جو گھر میں نہیں کر سکے۔کوئی اور بات ہوگی جو آپ کی بات کو نرم کرنے والی ہوگی۔کوئی دکھاوا ہوگا، خوف ہوگا دُنیا کا کہ کہیں مار ہی نہیں بیٹھے اس صورت میں ہو سکتا ہے آپ باہر نرم باتیں کرتے ہوں اور گھر میں نہ کرتے ہوں مگر یہ تضاد بتا رہا ہے کہ ایسا شخص جھوٹا ہے۔اگر جھوٹا نہ ہو تو اس کا طریق وہی ہونا چاہئے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم کا طریق تھا جو گھر میں طریق تھا وہی باہر تھا۔جوانداز بیان گھر کا تھا وہی انداز بیان باہر کا تھا۔جس طرح اپنے بچوں سے گفتگو فرماتے تھے اسی طرح دشمنوں سے بھی گفتگو فرما یا کرتے تھے اور پرواہ نہ کرنے والوں سے آپ دکھ محسوس کرتے تھے اور ان کے لئے دعائیں کیا کرتے تھے۔اس طریق میں کوئی بھی خامی نہیں ہے۔ایک ادنی سا بھی تضاد نہیں ہے ان باتوں میں اگر آپ حضرت اقدس محمد مصطفی سی ایم کی نصیحت کو سمجھ لیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آغاز ہی میں یہ خطرہ محسوس کر کے کہ بولنے اور نہ بولنے کی