خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 945
خطبات طاہر جلد 16 945 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء متین دلیل ملتی ہے کہ وہ سمجھ جاتا ہے کہ اب میں نے واقعہ سب کچھ پالیا ہے اور وہ باقیوں سے الگ کیا جاتا ہے اور قرآن جس طرح فرقان ہے باقی سب مذاہب سے نمایاں، الگ اور باقی سب کتابوں سے نمایاں الگ اسی طرح انسان بھی اپنی ذات میں ایک فرقان بن جاتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرقان بنتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور بھی بہت سے مضامین ہیں جو اس آیت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وقت کی نسبت سے میں مختصر 1 آگے گزروں گا کیونکہ بہت سی احادیث نبویہ بھی آپ کے سامنے رکھنی ہیں اور ان کی بھی تشریحات کرنی ہیں۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ جو کوئی بھی رمضان کو دیکھ لے فَلْيَصُمْهُ پس وہ اس کے روزے رکھے۔شہد سے مطلب یہ ہے کہ ایک تو چاند کی شہادت ہوا کرتی ہے یعنی رمضان کا چاند دکھتا ہے تو لوگ دیکھتے ہیں۔دوسرا شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّہر جس نے رمضان کی حقیقت کو سمجھ کر اس مہینے کو پا لیا ہو وہ اس پر گواہ بن گیا ہو ایسے شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ اس کے روزے رکھے۔وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ اگر ایسا شخص مریض ہو یا سفر کی حالت میں ہو فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ تو پھر دوسرے دنوں میں اس عدت کو پورا کرنا ہے۔بہت سے لوگ ہیں جو سفر کی حالت میں بھی روزے رکھتے ہیں حالانکہ یہ آیت کریمہ صاف صاف بتلا رہی ہے کہ سفر کی حالت میں روزے نہ رکھو۔اگر سفر کی حالت میں انسان خدا کو زبردستی خوش کرنے کے لئے روزے رکھے گا تو اللہ تعالیٰ کو تو ز بر دستی خوش نہیں کیا جاسکتا۔ساری زندگی روزے رکھ رکھ کے مر جائے مگر ز بر دستی خدا کو خوش نہیں کیا جاسکتا کیونکہ روزوں میں نیکی اس کی رضا کی نیکی ہے۔اگر رضا نہیں تو نیکی بھی نہیں۔اگر رضا اس بات میں ہے کہ نہ رکھو تو نہ رکھو اور یہ نہ سمجھو کہ تم رمضان کے روزے رکھ کر سفر کی حالت میں بھی اللہ کو خوش کر سکتے ہولیکن رمضان کے مہینے میں سفر کی حالت میں روزے رکھنافی الحقیقت اگر آپ غور کر کے دیکھیں تو نیکی ہے ہی نہیں کیونکہ انسان رمضان کے مہینے میں آسانی سے روزے رکھتا ہے اور وہ روزے جب رمضان کے بعد الگ رکھنے پڑیں پھر اس کو سمجھ آتی ہے کہ مشکل کام تھا۔تو بعض لوگ نیکی کے بہانے آسانی چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ روزوں کو ٹر خاؤ جتنے نکل جائیں ہاتھ سے نکل جائیں ورنہ مصیبت پڑے گی بعد میں۔تو اللہ تو نفس کو جانتا ہے، اس کی گہرائیوں سے باخبر ہے اس لئے اللہ کو آپ دھوکہ نہیں دے سکتے۔