خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 946
خطبات طاہر جلد 16 946 خطبہ جمعہ 26 دسمبر 1997ء آپ دوبارہ اپنا تجزیہ کر کے دیکھ لیں آپ کو یہی معلوم ہوگا کہ اکثر سفر میں روزے رکھنے والوں نے اسی وجہ سے روزے رکھے تھے کہ اب مہینہ چل رہا ہے سب روزے رکھ رہے ہیں ہم بھی ساتھ رکھ لیتے ہیں بعد میں کون رکھتا پھرے گا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ آيَامٍ أُخَرَ۔اگر سفر میں ہو تو آیا ھے آخر میں روزے رکھو۔اب اس میں ایک بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد فرمایا گیا ہے۔يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اللہ تمہارے لئے یسر چاہتا ہے، آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔اب اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر واپس اس آدمی کی طرف جائیں جو آسانی اسی میں دیکھتا ہے۔کیا اس کو اجازت ہوگی؟ اس کو اجازت نہیں ہوگی کیونکہ اس کے روزے ، روزے ہوتے ہی نہیں۔فرماتا ہے اطمینان سے روزے رکھو ٹیسر کے ساتھ ، آسانی ہو ، سارا دل اور دماغ پوری طرح روزے میں لگا ہو اس آسانی کی حالت میں روزے رکھو تنگی اٹھا کر، مصیبت میں پڑ کر روزے نہیں رکھتے۔پس وہ شخص جو اپنے روزے ٹالتا ہے وہ دراصل عسر کے روزے رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے لئے اللہ محسر نہیں چاہتا تم نے ٹیسر کے روزے رکھنے ہیں۔وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ یہ بعد میں روزے رکھنا اس لئے ہے کہ تم عدت پوری کر لو یعنی تمہیں دن کے روزے ہیں تو تمہیں دن کی عدت کو پورا کیا جائے گا۔اگر انتیس دن کے روزے ہیں تو انتیس دن کی عدت کو پورا کیا جائے گا۔عدت کو پورا کرنا مقصود بالذات ہے۔پس رمضان دیکھا ہو تو رمضان کے روزے نہ رکھنے کا کوئی بھی عذر قبول نہیں ہو گا جب تک اس کے روزے بعد میں پورے نہ کئے جائیں۔اس کے نتیجے میں وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدِيكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ تاکہ تم اللہ کی تکبیر بلند کرو، اللہ کی بڑائی بیان کر و عَلى مَا هَدُ بكُمْ اس بات پر جو اللہ نے تمہیں ہدایت دے دی، جس ہدایت کا پہلے ذکر گزر چکا ہے۔وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اور تا کہ تم اس کے شکر گزار بندے بنو، اس کا شکر یہ ادا کرو۔رمضان میں سے گزرنے کے بعد امر واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ نے صحیح روزے اللہ کی خاطر رکھے ہوں تو لازماً رمضان کے بعد بہت شکر کی توفیق ملتی ہے۔بعض لوگ اس وجہ سے شکر کرتے ہیں کہ ان پر رمضان بو جھل تھا اور اللہ تعالیٰ نے تو فیق عطا فرمائی کہ بوجھل ہونے کے باوجود اس کے