خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 864 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 864

خطبات طاہر جلد 16 864 خطبہ جمعہ 21 نومبر 1997ء گئیں اور کھڑے ہونے کی صلاحیت ہی نہیں رہی ، جنہوں نے ہاتھ اٹھا اٹھا کے اتنی دیر اٹھائے رکھے کہ وہ ہاتھ مر گئے اور ان میں ہلنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی۔ایسے عجیب و غریب جو مجاہدات بتائے جاتے ہیں بالکل جھوٹ ہیں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ مجاہدات سے ان کا کوئی بھی تعلق نہیں۔فرمایا اس لئے خواہ مخواہ ڈرو نہیں۔ہم وہ ہیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غلام جن کو رسول اللہ ﷺ کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کی توفیق ملی۔فرماتے ہیں ہم یعنی تم لوگ اے جماعت احمد یہ وہ لوگ ہو جن پر مشکلات کو آسان کر دیا گیا ہے۔ان صورتوں کے اختیار کرنے سے بعض لوگ بخیال خویش با خدا بننا چاہتے ہیں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ایسی ریاضتوں سے خدا تو کیا ملنا ہے انسانیت بھی جاتی رہتی ہے۔“ یعنی ایسے فقیر اور بزعم خویش خدا نما بننے والے بداخلاق ہو جاتے ہیں اور اسی لئے میں نے ایک فقیر کا آپ کو حوالہ دیا جس کا ذکر پاکستان کی تاریخ میں محفوظ ہے کیونکہ بڑے بڑے چوٹی کے باخدا بننے والے سر براہ ان کی خدمت میں ان کی گالیاں کھانے کے لئے حاضر ہوا کرتے تھے ، جہالت کی حد ہے۔پس یہ بدخلق لوگ با خدا ہونے کا کیسے دعوی کر سکتے ہیں جن کو بولنے کی بھی تمیز نہیں۔فرمایا: لیکن ہمارے سلوک کا یہ طریق ہرگز نہیں ہے بلکہ اسلام نے اس کے لئے نہایت آسان راہ رکھ دی ہے۔وہ کشادہ راہ وہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (اے خدا ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔) یہ دعا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھلائی ہے تو ایسے طور پر نہیں کہ دعا تو سکھا دی ہے لیکن سامان کچھ بھی مہیا نہ کیا چنانچہ اس سے اگلی سورۃ میں اس قبولیت کی طرف اشارہ ہے ہو۔،، وو ( یعنی جب یہ دعا سکھائی تو محض دعا سکھا کے نہیں چھوڑ دیا فرمایا اس سے اگلی سورۃ میں ہی اس دعا کی قبولیت کی طرف اشارہ ہے ) جہاں فرمایاذْلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ۔( ملفوظات جلد اول صفحہ: 233 )۔وہ راہ جو تم مانگ رہے ہو کشادہ راہ جس میں کوئی ٹھو کر، کوئی غلطی نہیں یہ کتاب ہے۔