خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 837
خطبات طاہر جلد 16 837 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ایمان کی جڑ بھی نماز ہے بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔“ ایمان کی جڑ نماز ہے لیکن نماز ایمان کو پیدا کرتی ہے یہ تضاد کیا ہے۔ایمان کی جڑ ہے اور نماز ایمان ہی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔یہ مضمون خدا تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کے شروع میں یوں سمجھا دیا کہ ایک ایمان کی حالت ایمان بالغیب کی حالت ہوتی ہے۔جن لوگوں کو ایمان بالغیب نصیب ہو۔يُقِيمُونَ الصَّلوة (البقرہ:4) وہ لوگ ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں لیکن ایک ایمان نماز میں سے پھوٹتا ہے وہ ایمان بالغیب نہیں رہتا ، وہ ایسا ایمان ہے جس میں انسان خدا کو اپنے سامنے دیکھ لیتا ہے اور اگر دیکھ نہیں سکتا تو حدیث کے مطابق کم سے کم یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو سنوارتا ہے۔اللہ دیکھتا ہے یہ احسان کا مضمون ہے اور یہی وجہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اس عظیم کلام میں بار بار یہی فرمایا سُبحانَ مَن يراني، سُبحانَ مَن یرانی اور یہ حالت بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فی الحقیقت ہمیشہ نماز ہی کی حالت میں الله رہتے تھے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے احسان کے مضمون کو نماز سے باندھا ہے اور فرمایا کہ احسان کی اول حالت یہ ہے کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو یا کم سے کم یہ کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے اور اس خدا کے دیکھنے میں بہت مزے مزے کی باتیں شامل ہیں اللہ دیکھ رہا ہے کہ یہ بندہ کیسے نماز پڑھ رہا ہے۔جب کسی پیارے کی طرف توجہ ہواور یہ یقین ہو کہ وہ دیکھ رہا ہے تو دل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔پس دیکھنے کا مضمون ہے جس کو نماز سے بہت گہرا تعلق رکھتا ہے اور اس مضمون پر جتنا بھی بیان کیا جائے کم ہوگا۔چنانچہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نظم کے تعلق میں کثرت سے بعض خطبات میں ، بعض تقاریر میں، بعض گفتگو کے دوران یہ بیان کیا ہے کہ سُبحانَ من یرانی کے اندر بڑے کثرت کے ساتھ مضامین شامل ہیں۔انسان کی زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہیں آتا جب وہ بے خبر ہو سکے۔جس کو ہر وقت دیکھا جارہا ہو اس میں جرات کیسے ہوسکتی ہے کہ وہ گناہ میں مبتلا ہو لیکن اس سے بہت بڑھ کر یہ مضمون ہے جو پیش نظر رہنا چاہئے کہ کوئی دیکھ رہا ہے تو محبت سے دیکھ رہا ہے۔جب یہاں پہنچتے ہیں تو نماز کی کایا پلٹ جاتی ہے۔انسان ایسی نمازیں پڑھے کہ خدا کے