خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 836
خطبات طاہر جلد 16 836 خطبہ جمعہ 14 نومبر 1997ء برکتوں کا موجب بننے والا ہے۔اس لئے نماز کے سلسلے کو جاری رکھیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے کس قدر بے پایاں احسانات ہم پر نازل ہورہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جن اقتباسات کو میں پڑھ رہا تھا اب میں ان میں سے پہلا اقتباس جو میرے سامنے ہے شروع کرتا ہوں۔فرمایا: جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بادل جمع ہو جاتے ہیں اور بارش کا وقت آجاتا ہے۔ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارت ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے 66 ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔“ سوزش اور گدازش جو بے چینی پیدا کرتی ہیں، ایک آگ سی دل میں لگ جاتی ہے اس کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ادب کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عرفان کا ایک ثبوت ہے ورنہ عام طور پر یہ تحریر اس طرح نہیں ملتی۔ہر انسان یہی کہتا ہے کہ جو سوزش اور گدازش سے دعائیں کی جاتی ہیں وہ قبول ہوتی ہیں اس لئے سوزش اور گدازش سے اپنی نمازوں کو سنواریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔“ ادب کے پہلو کو اس سوزش اور جنون کی حالت میں نظر انداز نہیں کرتا۔ورنہ سوزش کی حالت میں انسان بعض دفعہ ایسے مطالبے کر بیٹھتا ہے، اس رنگ میں مطالبے کر بیٹھتا ہے جو ایک اعلیٰ مقتدر ہستی کے سامنے ایک قسم کی بے ادبی بن جاتی ہے مگر ایسا ہو کہ: وو وو ” جب انسان بندہ ہو کر لا پرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے اور ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔66 یہاں اب انفرادی نمازوں کی بجائے قومی طور پر امتوں کے زندہ ہونے کا ذکر فرما رہے ہیں اور زندہ رہنے کا ذکر فرما رہے ہیں۔اس پہلو سے اس اقتباس کو میں نے سب سے پہلے رکھا ہے کہ یہ جماعتی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: