خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 774 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 774

خطبات طاہر جلد 16 774 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء سے اس کی ذات الگ رہے گی۔مگر وہ صفات جو تخلیق میں جلوہ گر ہو چکی ہیں ان کو سمجھنا ہمارے لئے ممکن ہے اور انہی صفات کو سمجھنے کے حوالے سے ہمارا سفر آگے بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ وہ مخفی در مخفی ذات اپنے بعض اور جلوے دکھائے اور ان جلوؤں میں ہمارا سفر اس کی طرف پھر ہمیشہ آگے بڑھنے لگے۔یہ دنیا اور آخرت کا سفر ہے جسے ہم نے اختیار کرنا ہے مگر اگر باشعور طور پر اس سفر کے حقائق کو سمجھتے ہوئے اس دنیا میں ہم اس کا آغاز نہ کریں تو آخرت میں بھی یہ سفر نصیب نہیں ہوگا جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔پس اس حقیقت کی طرف ساری جماعت کی آنکھیں کھولنے کے لئے میں بار بار نماز کی اہمیت کی طرف آپ کو متوجہ کر رہا ہوں۔ان معنوں میں نماز کو سمجھیں اور اپنے گھروں میں، اپنے بچوں میں، اپنی بیویوں کو نماز سمجھائیں اور وہ آگے پھر آئندہ نسلوں کو سمجھائیں۔اگر نماز کا مضمون جماعت پر روشن ہو کر ان کے وجود کا حصہ بن جائے تو پھر اطمینان سے جان دے سکتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق بخشی کہ دور تک آئندہ نسلوں کو خدا کی راہ پر ڈال چکے ہیں۔شیطان انہیں ورغلاتا رہے گا اور ورغلانے کی کوشش کرتا رہے گا، آپ کو بھی ور غلا تا رہے گا ، آپ کو بھی ورغلانے کی کوشش کرتا رہے گا مگر ہمت اور کوشش سے اپنی نماز کو کھڑا کرتے چلے جاتا ہے۔یہ کھڑا کرتے چلے جانا وہ توفیق ہے جو ہمیں نصیب ہے۔پوری طرح کھڑا کر دینا ہمیں توفیق نہیں۔اس لئے اس کا آخری پہلو دعا پر ٹوٹتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے ان ساری کوششوں میں دعا کرنا جو نماز کے دوران ہی نہ ہو بلکہ نماز کے بعد کے حصوں پر بھی حاوی ہو یہ بنیادی حقیقت ہے جس سے روگردانی ہمیں ان معارف کو حاصل کرنے میں روک بن جائے گی۔دعا سے روگردانی کسی حالت میں نہیں کرنی۔دعائیں کریں۔اپنی ذات کے لئے بالا رادہ دعائیں کریں اور روزانہ دعائیں کریں۔اگر آپ دعائیں نہیں کریں گے تو آپ کو نماز کی طرف توجہ ہی پیدا نہیں ہوگی۔دعاؤں کے ذریعے اس توجہ کو نمایاں کریں اور جوں جوں آپ کی دعا مقبول ہوگی ، دل سے اٹھتے ہوئے آپ کے دل پر ایک اثر چھوڑتی چلی جائے گی جو اس کے اٹھنے کا ایک نقش ہے۔جس طرح سمندر سے ہوائیں اٹھتی ہیں ان میں بجلی پیدا ہوتی ہے لیکن وہ اٹھتی ہیں تو پیچھے رہنے والے پانی میں بھی بھلی پیدا کر دیتی ہیں اور یہ قانون قدرت ہے جو ہمارا حوصلہ بڑھاتا ہے۔