خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 775 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 775

خطبات طاہر جلد 16 775 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء پس حقیقت دعا ایک بہت گہرا مضمون ہے۔اس کی مقبولیت کے متعلق اس وقت تفصیل میں جانے کا وقت نہیں مگر ایک بات میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ دعا جو دل سے اٹھے وہ اٹھتے ہوئے اپنی مقبولیت کا ایک نشان پیچھے چھوڑ جاتی ہے اور وہ نشان آپ کی امانت ہے وہ نشان آپ کے حوصلے بڑھانے والا ہے وہ نشان آپ کا یقین بڑھانے والا ہے کہ آپ نے دعا مانگی تھی اخلاص سے مانگی تھی اور اس کا ایک نیک اثر آپ کے دل پر قائم ہو چکا ہے۔پس اس طرح کی دعا ئیں جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے آپ کی دنیا بھی سنوار دیں گی اور آپ کی عاقبت بھی سنوار دیں گی۔دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہر پہلو سے ہماری نمازیں خالصتہ اللہ ہو جائیں، اسی کے لئے وقف رہیں اور ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی اسی نیک راہ پر قائم رکھے۔اس ضمن میں جو دوسری احادیث میں نے چینی تھیں ان کو پڑھنے کا زیادہ وقت تو نہیں رہا لیکن ایک روز مرہ کی ایسی عام حقیقت ہے جو ہمارے سامنے رہنی چاہئے کہ بعض دفعہ قلبی تو جہات کے سوا جسمانی تو جہات بھی نماز میں مخل ہو جاتی ہیں یا جسمانی حوائج بھی نماز میں مخل ہو جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ان کی طرف بھی متوجہ فرمایا ہے۔مثلاً ایک یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ صلى الله عنہا سے مروی حدیث مسلم کتاب الصلوۃ سے لی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو حضرت عائشہ نے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب دستر خوان بچھ جائے اور کھانا چن لیا جائے تو نماز شروع کرنا اسے خراب کرنے کے مترادف ہے۔صلى الله جب دستر خوان بچھ جائے اور کھانا چن لیا جائے ، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس وقت اس کو اہمیت دو اور نماز کو چھوڑ دو۔یہ نصیحت ہے کہ ایسے وقت میں دستر خوان نہ بچھایا کرو جونماز کا وقت ہوا کرتا ہے ورنہ آدھی توجہ تمہاری دستر خوان پر رہے گی اور آدھی نماز کی طرف رہے گی۔تو بعض لوگ اس کا مطلب اور لے لیتے ہیں کہ نہیں نہیں رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ آرام سے کھانا کھاؤ نماز دیکھی جائے گی۔ہرگز آنحضرت ﷺ کا یہ حکم نہیں ہے۔یہ حوائج ضرور یہ ہیں جو اگر ایسے وقت میں آئیں کہ نماز کا وقت ہو تو لا ز مادخل انداز ہوں گی۔جو ہمارے بس میں ہے وہ تو اختیار کریں اور اگلی بات رسول اللہ ہے نے وہ فرمائی ہے جو ہمارے بس میں نہیں اور اس پہلی مثال پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔اسی طرح اگر دو خبیث چیزیں یعنی بول و براز کی حاجت اسے روک رہی ہو تو بھی نماز پڑھنا بے معنی ہے۔اب آپ ليسة