خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 773
خطبات طاہر جلد 16 773 خطبہ جمعہ 17 اکتوبر 1997ء ممکن ہی نہیں کہ خدا کی ذات لامحدود ہے۔مگر یہ ممکن ہے کہ رخ خدا کی طرف ہو اور اس رخ کے دوران چاہے آپ آہستہ چلیں، چاہے تیز چلیں مگر خدا کی جانب آپ اپنے آپ کو بڑھتا ہوا اور قریب ہوتا ہوا محسوس کرنے لگیں لیکن عرفان کا درجہ کمال تو مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔یہ خیال کہ آنحضرت مہ جس عرفان کی حالت میں خدا کے حضور حاضر ہوئے تھے اب تک اسی عرفان کی حالت میں ہیں یہ انتہائی جاہلانہ اور ہتک آمیز خیال ہے۔یہ آنحضرت ﷺ کی عزت افزائی نہیں ، نہ خدا کی توحید کا حق ادا کرنے کے مترادف ہے۔توحید باری تعالیٰ اور اس کا لامتناہی ہونا یہ تقاضا کرتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے وصال کے وقت تک جو عرفان حاصل کیا تھا وہ عرفان ٹھہرے گا نہیں اور کبھی بھی نہیں ٹھہرے گا۔وفات کے بعد خدا کی ذات میں آپ کا سفر جاری رہے گا اور آپ کے مرتبوں کی بلندی کی دعائیں جو ہمیں سکھائی گئی ہیں ہم کرتے رہیں گے اور یہ دعائیں اپنی ذات میں ضروری ہوں یا نہ ہوں آپ کے مرتبے ہر حال میں بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔پس یہی حال ہم عاجز بندوں کا ہے۔ہم اپنے مرنے تک جس سفر کو اختیار کر سکتے ہیں وہ خدا کی طرف قریب ہونے کا سفر ہے، خدا کو پوری طرح پالینے کا سفر ہے جو ہمارے سفر کا منتہی ہے وہ ایک ایسی ذات ہے جو ختم نہ ہونے والی ذات ہے، لا متناہی ذات ہے اور ایسی لامتناہی ذات ہے کہ انسانی ذہن عاجز آجاتا ہے لیکن اس کی کنہ کو سمجھ نہیں سکتا۔یہ خیال دل سے نکال دیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی کنبہ کو سمجھ سکتے ہیں۔لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری: 12) اس جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں یعنی جو بھی مخلوقات ہیں وہ خالق کی پیدا کردہ ہونے کی وجہ سے خالق کا رنگ رکھتی ہیں مگر خود خالق نہیں اس لئے مخلوق اور خالق میں ایک فرق ایسار ہے گا جسے مخلوق سمجھ نہیں سکتی کیونکہ اس نے جو بھی دیکھی ہے مخلوق دیکھی ہے، اپنے جیسے دیکھے ہیں اور اپنی مخلوق کے اندر خالق کوئی نہیں دیکھا اور خالق اس سے مخفی رہتا ہے جس طرح ہر آرٹ سے اس کا آرٹسٹ مخفی رہتا ہے۔بڑی سے بڑی تصویر اٹھا کر دیکھ لیں جو دنیا میں بہت شہرت اختیار کر گئی ہو اس تصویر کو اگر شعور بھی ہو تو وہ جس دماغ نے اس کو جنم دیا، جس نے پیدا کیا، جن ہاتھوں نے وہ عکاسی کی وہ اس کو نہیں سمجھ سکتے وہ اور چیز ہیں۔مخلوق اور ہے خالق اور ہے۔پس یہی وجہ ہے کہ فلسفیوں نے بہت زور مارے لیکن خدا تعالیٰ کی کنبہ کو نہ پاسکے اور یہی وجہ ہے کہ بعض قدیم چوٹی کے فلسفی اس مسئلے کو سمجھ گئے کہ خدا کی ذات کا سمجھنا مخلوق کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔اس پہلو