خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 649
خطبات طاہر جلد 16 649 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997 ء نہ آئے تو گویا مغفرت کا سامان نہیں ہوسکتا۔کوئی نہ کوئی علاج دوسرے طبی نظام میں ضرور مل جائے گا۔ایک کی بجائے دو تین چار بعض دفعہ صدری نسخوں میں جو سینہ بہ سینہ چلے آتے ہیں آپ کو ایسا علاج مل جاتا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے روزمرہ کے دوسرے ذریعے کام نہیں آتے۔بعض دفعہ جب کچھ بھی میسر نہ ہو تو قانون قدرت میں مغفرت کا ایک اور قانون جاری ہو جاتا ہے اور وہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے ، جب آپ علاج کی کوشش کریں اور میسر نہ آئے تو اللہ کی مغفرت مادی دنیا پر بھی اسی طرح غالب ہے جس طرح روحانی دنیا پہ غالب ہے اور وہاں آخری صورت دعا کی چلتی۔چنانچہ بسا اوقات ایسا ہوا ہے اس سفر میں بھی مجھے تجربہ ہوا کہ بعض بچوں کے لئے کوئی صورت ظاہری دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن جب دعا یہ توجہ دی گئی تو اچانک وہ ہنستے کھیلتے ٹھیک ہوتے ہوئے دکھائی دیئے اور ان کو بھی نہیں پتا کہ کیا بات کام کر گئی ہے۔قانون قدرت کے مطابق روحانی زندگی کو دیکھیں۔انہی قوانین کے تابع اگر کوئی زہریلا جانور انسان کو اس کی بے احتیاطی کی وجہ سے ڈستا ہے تو بلا تر دوا سے اپنی غلطی اور اس کے بدنتیجہ کا احساس ہو جاتا ہے لیکن گناہوں کا معاملہ اس سے کچھ مختلف ہے، ہر بار جب گناہ انسان کو ڈستا ہے تو اس کا فوری زہریلا اثر ہر انسان شناخت نہیں کر سکتا۔مگر یہ جلد یا بدیر ضرور ظاہر ہوتا ہے اور یہی وہ بڑا خطرہ ہے جو انسان کو مسلسل روحانی طور پر نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ایسے گناہ جو گناہ کرنے والا فوراً شناخت نہ کر سکے وہ اثر تو دکھاتے رہتے ہیں مگر ان کی تکلیف فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتی۔اس کے نقصانات میں سے ایک تو یہ ہے کہ گناہگار رفتہ رفتہ بدی میں بڑھتا چلا جاتا ہے اور گناہ اسے مسخ کرتے چلے جاتے ہیں جیسے کسی کو معلوم نہ ہو کہ وہ کوڑھ کا مریض ہے مگر اس کے علم سے بے نیاز کوڑھ اس کے سارے بدن پر اثر انداز ہوتی چلی جائے گی۔اس غفلت کا ایک طبعی نقصان یہ ہے کہ جب انسان اپنے مرض کو پہچان ہی نہ سکے تو اس کے علاج کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا۔یہی حال گناہوں کا ہے ان کی شناخت نہ ہونے کی وجہ سے علاج یعنی استغفار کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔مغفرت کی جستجو اور طلب میں غفلت ہو جاتی ہے۔یہ تمام مضمون خوف الہی سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے ساتھ خدا کی مغفرت، اس کی بخشش اس دنیا میں یا اُس دنیا میں نجات پانا اس سارے مضمون کی آخری تان دعا پہ ٹوٹے گی۔جب انسان بے قرار ہو جائے اور اس کی کچھ پیش نہ جائے ، یہ وہ دعا ہے جسے قرآن کریم مضطر کی دعا کہتا ہے۔وہ خدا جو عام حالات میں خدا سے روگردان