خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد 16 650 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997 ء انسان کی بھی کسی نہ کسی رنگ میں مغفرت فرماتا ہے لیکن اکثر اوقات انسان اس طرف توجہ نہیں دیتا یہاں تک کہ گناہوں میں ڈوب جاتا ہے لیکن جب اس کے لئے کوئی راہ نہیں رہتی، کوئی پیش نہیں جاتی بعض دفعہ اچانک گناہوں کے بداثرات میں اس طرح گھر جاتا ہے کہ اس کے پاس علاج کوئی نہیں لیکن ایسے حالات میں وہ خدا کو پکارتا ہے اور یہاں تو حید باری تعالیٰ ایک اور جلوہ دکھاتی ہے۔خدا کے سوا کوئی بھی نہیں جو اس کی مدد کر سکے صرف خدا پر سہارا ہو جاتا ہے اس کو تو حید خالص کہتے ہیں اور توحید خالص کا جلوہ دعا کے ذریعے دکھایا جاتا ہے۔دعا کا توحید کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے اگر دعانہ ہو تو تو حید کا آپ کو کچھ بھی علم نہیں ہوسکتا۔تو حید کو خدا نے بندوں کے ساتھ اور ذریعوں کے علاوہ دعا کے ذریعے مضبوطی سے باندھا ہے۔پس جب آپ دعا کریں گے تو مغفرت کے سامان اور گناہوں سے بچنے کے لئے ایک اور ذریعہ ہاتھ آ جائے گا لیکن وہ دعا جو مضطر کی دعا ہو۔مضطر اکثر انسان دنیا میں ہوتا ہے جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے جب کوئی صورت نہیں رہتی ، جب بیمار موت سے باتیں کر رہا ہے اس کے بچنے کے کوئی سامان نہیں اس موقع پر ہم نے ہمیشہ انسان کو مضطر دیکھا ہے لیکن اسی مضمون کو اپنی روحانی زندگی پر چلا کے دیکھیں۔کیا کبھی آپ روحانی لحاظ سے بھی مضطر ہوئے ہیں؟ اگر نہیں تو وہ دعا پھر کون سنے گا جس میں روزمرہ آپ نے خدا سے روگردانی کی ہو اور اس کی طرف توجہ کا خیال بھی پیدا نہ ہوا ہو۔پس وہ خدا جو مضطر کی دعا سنتا ہے وہ خدا آپ پر اس جلال کے ذریعے ظاہر ہونا چاہئے جو آپ کو مضطر کر دے۔بعض دفعہ انسان کو گناہ کی حقیقت میں اضطرار اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گناہ کا ایک ایسا نتیجہ نکلنے والا ہو جو دنیا کو دکھائی دے دے۔جب تک وہ دکھائی نہ دے ان کے اندر اضطرار نہیں پیدا ہوتا۔بعض ایسے لوگ ہیں جو ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اب ان کا نام لینا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا مگر میں جانتا ہوں مجھے خط لکھنے میں وہ ظاہر کر دیتے ہیں۔جب تک ایڈز اپنا اثر دکھا کر ان کو نگا نہ کر دے اس وقت تک ان کے دل میں اضطرار نہیں پیدا ہوتا۔جب یہ پتا چل جائے کہ سارے ماحول کو اب پتا چلے گا کہ یہ کس بیماری سے مرا ہے تو اس وقت جان نکنے لگتی ہے اور اس وقت اضطرار پیدا ہوتا ہے۔میں جو آپ کو بات سمجھا رہا ہوں یہ اس وقت کی بات نہیں سمجھا رہا۔یہ مضطر ایسا ہی مضطر ہے جس کی کشتی طوفان میں پھنس جائے۔مگر جو گناہوں سے بچنے کا طریق ہے وہ امن کی حالت میں