خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 637
خطبات طاہر جلد 16 637 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997ء آج ہمیں ایسے احمدیوں کی ضرورت ہے جو زمانے کی روش بدل دیں ، موت سے زندگی نکال کر دکھا ئیں۔( خطبه جمعه فرموده 29 /اگست 1997ء بمقام نن سپیسٹ۔ہالینڈ ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: الحمد للہ کہ میرا مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی کا سفر خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہر پہلو سے کامیاب رہا۔بہت سے تجارب مجھے ہوئے ، بہت سے تجارب جماعت کو ہوئے اور کثرت سے ایسے دوست جن کو احمدیت کے متعلق کوئی معمولی تعارف بھی نہیں تھا، یعنی تھا تو ایسا کہ نہ ہونے کے برابر، ان سے بھی رابطے ہوئے ان کے ذریعے نئی قوموں میں داخلے کے سامان ہوئے۔مثلاً چیچنیا روس کا (USSR) کا ایک ایسا حصہ ہے جہاں کے مسلمان بہت ملی غیرت رکھتے ہیں اور ہمیشہ سے ان کا یہی طریق چلا آیا ہے کہ کسی بھی حکومت میں اسلام کے خلاف قدروں کو برداشت نہیں کرتے اور آزادی کا رجحان پایا جاتا ہے۔بہت بہادر قوم ہے، غیر معمولی قربانیاں دینے والے لوگ ہیں ملت اسلامیہ سے محبت تو ہے لیکن بدقسمتی سے اسلام کی حقیقت سے نا آشنا ہیں اور یہی بد قسمتی بہت سی ہم نے بوسنیا میں بھی دیکھی اور البانین لوگوں میں بھی پائی گئی کہ اکثر اسلام کی محبت ملت کی حد تک رکھتے ہیں جسے نیشنل ازم کہتے ہیں، اسلام ایک نیشنلزم کہہ سکتے ہیں۔مگر دین کی محبت اور اس کے مطابق اپنی قدروں کو ڈھالنا اور تبدیلیاں پیدا کرنا اس کی طرف ان کے خوجوں اور ان کے مذہبی راہنماؤں نے بھی ان کو توجہ ہی نہ دلائی۔اس بناء پر میں سمجھتا ہوں میرے اس سفر کو خاص اہمیت اس لئے حاصل ہے کہ ان