خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 638 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 638

خطبات طاہر جلد 16 638 خطبہ جمعہ 29 راگست 1997ء نئی قوموں کو مذہب کی حقیقت بتانے کا موقع ملا اور ان کی طرف سے جور د عمل تھا وہ بہت غیر معمولی طور پر مخلصانہ رہا۔پچنین سے گفتگو کے دوران شروع میں تو وہ لوگ وہی پرانے رسم و رواج کو ہی مذہب سمجھے بیٹھے تھے اور رفتہ رفتہ جب بات آگے بڑھتی گئی تو حیرت انگیز طور پر انہوں نے اپنے اندر تبدیلیاں شروع کیں اور ان کو یہ یقین ہو گیا کہ اسلام کے جس نام پر ان کو بعض رسمیں سکھائی گئی ہیں وہ اسلام کی حقیقت نہیں ہے۔چنانچہ مجھ سے پھر ایسے سوال شروع کر دئے جس کے نتیجے میں صاف محسوس ہورہا تھا کہ اب ان کو اسلام مذہب میں دلچسپی ہے، اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کرنے میں دلچسپی ہے۔چنانچہ خدا کے فضل سے ایک ایسا چھوٹا سا گروہ وہاں پیچھے چھوڑ کے آیا ہوں جن کے آگے چیچنیا میں رابطے ہوں گے اور امید رکھتا ہوں کہ اس سلسلے میں ایک نئی قوم کی طرف ہمارا تبلیغ کا دروازہ کھل جائے گا۔تو اس پہلو سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ بہت مفید اور کارآمد سفر رہا۔بوسنین میں بھی اگر چہ پہلے احمدیت داخل تو تھی مگر اجنبیت کی بھی پائی جاتی تھی۔اس دفعہ جو بوسنینز ملے ہیں ان میں بہت نمایاں تبدیلی ہے ان میں بعض کی تو فدائیت کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کے پیدا ہونے والے مخلصین بھی ان سے لگا نہیں کھا سکتے۔وہ اپنے عشق میں محبت میں اللہ کے فضل کے ساتھ اب بہت بڑھ رہے ہیں تو یہ سارے امور ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر اگر چہ اپنی ذات میں بہت سی مشکلات بھی رکھتا ہے، کئی پہنی اور عملاً بوجھ پڑتے ہیں انسان کے اوپر گر جماعت کی بقاء کے لئے ہے ضروری۔پھر خاندانی طور پر جو لوگوں کو ملنے کا موقع ملا ہے بڑے چھوٹے ،عورتیں مرد اس کا ایک اپنا سا فائدہ ہے ان کو قریب سے دیکھ کر ان کی اخلاقی حالت کا علم ہو جاتا ہے جو دور بیٹھے دکھائی نہیں دے سکتیں۔قریب سے دیکھو، ان سے ملو تو ان کی حرکتوں کے اوپر خواہ مجھے تبصرہ نہ بھی کرنا ہوا خلاق کی وجہ سے ، مگر حرکتیں دکھا دیتی ہیں کہ ہم کیا ہیں، ہمیں کس طرح پروان چڑھایا گیا۔کیا کیا بد عادات ہماری جو ہم پاکستان سے لے کے چلے تھے ابھی تک موجود ہیں اور کن پہلوؤں سے ہمیں مزید توجہ کی ضرورت ہے۔یہ ساری باتیں از خود دل پر منعکس ہوتی ہیں، پوچھنا نہیں پڑتا اور پھر اس دوران چھوٹی چھوٹی باتوں کے ذریعے ان کو توجہ دلانی پڑتی ہے اور عموماً میں نے دیکھا ہے کہ بچے خصوصیت کے ساتھ اور جوان بچیاں بھی جلد اثر قبول کرتی ہیں اور اس پہلو سے بھی یہ دورہ انشاء اللہ میں امید رکھتا ہوں کہ ایسے باقی پاکیزہ اثرات چھوڑے گا کہ جو آگے ان کے کام آئیں گے اور اس دورے میں جو