خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد 16 595 خطبه جمعه 8 راگست 1997ء فَإِنْ كُنْتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَثَلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُونَ الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَ كَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ الله مِنَ الْمُمْتَرِينَ دیکھو ایک حالت ، ایک وقت تھا حضرت نوح پر بھی آیا تھا جب قوم تبدیل نہیں ہورہی تھی آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے اگر تجھے شک پیدا ہوا اس بات پر جو ہم نے اتاری ہے تو ان لوگوں سے پوچھ کر دیکھ لے جن پر پہلے کتابیں اتاری گئی تھیں۔مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کا حال ہم تجھے پڑھ کر سناتے ہیں ان پر نظر ڈال اور ان میں سے بھی ایک نوح کا بھی حال تھا۔لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ان کا مانا یا نہ مانا تیرے حق کی پہچان نہیں ہے تیرا حق تو لازماً اللہ ہی کی طرف سے ہے فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ پس ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہو۔آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ زندگی کے کسی لمحے میں بھی آپ نے ان خدا تعالیٰ کی نازل فرمودہ پیشگوئیوں اور انعامات پر شک کیا ہو جو ہمیشہ آپ پر نازل ہوتی رہیں آپ خدا کے ساتھ ساتھ رہے ایک ذرہ بھی آپ کی زندگی میں ان پر شک کا نہیں گزرا اس لئے یہ پیغام مسلمانوں کے نام ہے۔ان کے نام جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے۔مخاطب رسول کو کیا جا رہا ہے مگر مراد وہ سب لوگ ہیں جن کو کبھی کبھی یہ گمان گزرتا ہو گا کہ خدا کی پیشگوئیاں ہمارے حق میں شاید پوری نہیں ہور ہیں۔ایسے لوگ آنحضرت میہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں اپنے شک کا اظہار بھی کیا اس موقع پر بھی رسول اللہ یہ ایک لحہ بھی ان کے بیانات سے متاثر نہ ہوئے بلکہ فرمایا کہ دیکھو تم سے پہلے ایسے لوگ تھے جن کے سر آروں سے چیرے گئے تھے انہوں نے اف تک نہیں کی تھی میرے ساتھ ہوتے ہوئے تم اف کرتے ہو۔تو آپ کی ساری زندگی یہ ثابت کر رہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو بھی ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوا فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ میں دراصل محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات جو ہماری راہنما ہے اس کے متعلق ایک پیش گوئی ہے تكُونَنَّ تو ہرگز کبھی بھی شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔اس میں آپ کے متبعین ، آپ کے غلام، مستقبل کے متبعین مستقبل کے غلام سب شامل ہیں۔تیرے شک سے ساری قوم شک میں مبتلا ہوگی اس لئے آئندہ آنے والے زمانوں کا تو رسول اور نبی ہے، تو غیر متزلزل رہ جس طرح ہے اور مستقبل کی طرف پھر امید