خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 596 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 596

خطبات طاہر جلد 16 596 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء سے دیکھ کہ کبھی بھی تیرا وسوسہ جو تجھے نہیں حاصل ہوگا وہ آئندہ آنے والے مسلمانوں میں منتقل نہیں ہوگا اگر کوئی وسوسے میں پڑے گا تو تیرے وسوسوں کے بغیر ، وسوسوں سے پاک ہونے کے باوجود پڑے گا۔یہ ایک کھینچا ہوا معنی معلوم ہوتا ہے مگر یہ کھینچا ہوا معنی نہیں بعینہ اس آیت کا یہی معنی ہے اور حضرت محمد مصطفی ہے کے شک کا اس میں اشارہ بھی ذکر نہیں کیونکہ آپ کی ساری زندگی اس بات کو جھٹلا رہی ہے۔خدا تعالیٰ ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہے جو جھوٹی ہو جس کو خدا کا رسول اپنے عمل سے جھٹلا رہا ہو۔پس لازماً یہاں ترجمہ وہ کرنا پڑے گا جو خدا کی بھی تصدیق کرنے والا ہو اور محمد رسول اللہ اللہ کی بھی تصدیق کرنے والا ہو۔آگے فرمایا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِايَتِ اللهِ (یونس : 96) اور تو ہرگز ان لوگوں میں سے نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔فَتَكُونَ مِنَ الْخَسِرِيْنَ پس تو یقینا گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائے گا کیا رسول اللہ ﷺ اللہ کی آیات کو جھٹلا سکتے تھے۔وى الْمُمْتَرِینَ والا مضمون پھر اور بھی زیادہ کھول دیا ہے یہ تو ناممکن ہے تیرے لئے کہ تو ایسا ہو۔اس لئے خدا کی آیات جو تجھ پر نازل ہوتی ہیں ان کا مظہر بن ان کو اس طرح اپنے ماننے والوں کے سامنے پیش کر کہ تیرا یقین ان کی طرف منتقل ہو نہ تو گھاٹا کھانے والا بنے نہ تیرے ماننے والے گھاٹا کھانے والے بنیں۔اِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ (يونس: 97) یہ بات ہے جواب کھولی جارہی ہے تو دیکھ رہا ہے کہ لوگ ایمان نہیں لا رہے یعنی کچھ لوگ ایمان نہیں لا رہے، آنے والے بھی دیکھیں گے کہ کچھ لوگ ایمان نہیں لائیں گے وہ اس بات کو نہ بھولیں کہ إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ کہ وہ لوگ جن پر خدا کی تقدیر نے لازماً اطلاق پانا ہے ضرور ان پر صادق آرہی ہے ان کو کوئی دنیا کی دعائیں یا استغفار یا نصیحتیں تبدیل نہیں کر سکتیں انہوں نے لازما ظلم کی حالت میں مرنا ہے۔وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلٌّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيْم (يونس: 98) خواه ان کے پاس وہ سارے نشانات آجائیں جو خدا کی طرف سے آیا کرتے ہیں اس وقت تک وہ ایمان نہیں لائیں گے۔حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ جب تک وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں اور اس آیت کریمہ میں حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيْمَ میں یہ بھی معنی ہیں یہاں تک کہ الْعَذَابَ الاليم ان کو آجائے ، الْعَذَابَ الأَلِيم ان پر نازل ہو جائے۔دوسرا نازل ہو جائے گا تب بھی