خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد 16 594 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997ء گزرتا جب ہم دعانہ کرتے ہوں ہم ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بچالے۔اللہ تعالیٰ ان کو ہر ہلاکت سے محفوظ رکھے ہر گراوٹ سے سنبھالے، اللہ تعالیٰ ان کو قعر مذلت سے نکال کر آسمان کی بلندیوں تک اٹھالے ہماری ہمیشہ یہ دعا ہوتی ہے مگر یہ منہ پھیرے ہوئے ہیں وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِ (بنی اسرائیل : 84) یہ ان کا حال ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب ہم انسان پر اپنی نعمت اتارتے ہیں تو أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِہ وہ منہ موڑتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے ہم سے، ان کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کے حق میں دعائیں قبول نہیں کی جاتیں یہ مشکل ہے ایسے لوگوں کے حق میں انبیاء کی دعائیں بھی قبول نہیں کی جاتیں۔ایسے لوگوں کے حق میں حضرت محمد مصطفی امیہ کی دعائیں بھی قبول نہیں کی گئیں اور آپ کو بتا دیا گیا ان بدبختوں کے حق میں تم دعا کرو گے تو قبول نہیں کی جائے گی۔یہاں خدا کی وحدانیت اپنا جلوہ دکھاتی ہے وہ نبیوں کو بھی کہتا ہے کہ تم قوم کی حالت نہیں بدل سکتے۔نوقح سے بھی یہی تو کہا تھا۔حضرت نوح کو بھی خدا نے جب آپ کو یہ پیغام دیا کہ اب قوم سے یہ کہہ دو، یہ بیان فرما دیا تھا کہ اب تمہارا قوم کو ڈرانا ، ان کو سنبھالنا، ان کو چھپ چھپ کے پیغام دینا، ان کو ظاہر ظاہر میں پیغام دینا جو کچھ تمہارے بس میں تھا تم کر چکے اس قوم کو فائدہ نہیں دیا نہ آئندہ دے گا۔اب جب فائدے کے سلسلے بند ہو چکے تب ہلاکت کی گھڑی آئی ہے اگر فائدے کے سلسلے جاری رہتے تو خدا تعالیٰ کبھی بھی ہلاکت کی گھڑی نہ لاتا۔مجھے ڈر ہے کہ یہ حضرت نوح والا معاملہ اب ہماری آنکھوں کے سامنے رونما ہونے والا ہے۔اس کے لئے فکرمند ہوں اور اس کے لئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان شیطانوں کو اپنے ماتحت چھوٹے شیطانوں پر اثر اندازی سے روک دے اب تو بڑے شیطان اور چھوٹے شیطانوں والی بات ہوگئی ہے کہیں بھی بھلائی دکھائی نہیں دیتی تلاش کر کے دیکھو شاذ کے طور پر کہیں بھلائی نظر آئے گی ، ہوتی تو ہے دنیا میں ہر جگہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بھلائی دکھائی دیتی ہے شاذ شاذ کے طور پر لوگ ابھر رہے ہیں اور وہ نیکی کی بات کرتے ہیں ،مگر ساری قوم کا جو حال ہو چکا ہے اس کو تبدیل کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔اس تعلق میں میں یہ آیات سورۃ یونس ہی کی 95 تا98 آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: