خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 587
خطبات طاہر جلد 16 587 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء افریقہ فخر کرتا ہے کہ ہم مذہب کو خدا پر چھوڑتے ہیں اور حکومت کے معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ساری تاریخ میں یعنی احمدیت کی جو بھی تاریخ افریقہ میں بنی ہے ایک بات وہاں کے سربراہوں نے بھی اور دانشوروں نے بھی بڑے زور سے کہی اور تسلیم کی اور بار بار یہ کہا کہ احمد یہ جماعت مذہب کے نام پر کوئی اختلاف پیدا نہیں کرتی۔بار بار یہ تسلیم کیا کہ احمد یہ جماعت نہ مذہب کے نام پر دوسرے مذہبی فرقوں سے افتراق کر کے ان کے خلاف کسی قسم کی اشتعال انگیزی کرتی ہے نہ یہ جماعت سیاست میں دخل دیتی ہے اور سیاست کو اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کرتی ہے۔ایسی جماعت ہے جو خدمت کر رہی ہے اور جہاں ان کا رسوخ بڑھتا ہے وہاں بھی سیاست پر اثر انداز نہیں ہوتی اور وہاں بھی جو دوسری قومیں آہستہ آہستہ ایک اقلیت میں تبدیل ہو رہی ہیں ان سے ان کا حسن سلوک جاری رہتا ہے۔یہ جماعت احمدیہ کا کردار ہے جو افریقہ میں ابھرا ہے اور افریقہ نے اسے تسلیم کیا ہے۔تمام سر براہان حکومت اس بات کی عزت کرتے ہیں اور احمدی کو ہمیشہ عزت اور وقار کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ اس نے افریقہ میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے اور اپنے مذہب کو کبھی بھی فساد اور حقوق تلفی کے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ احمدی نے جب بھی وہ اچھا احمدی ثابت ہوا غیروں کی خدمت کی۔مذہب سے بے نیاز ہو کر کہ کونسا کس کا مذہب ہے عیسائیوں کی خدمت کی ، Pagans کی خدمت کی ہر جگہ برابری کا سلوک کیا ہے۔یہ وہ ملک ہے جس میں اب دشمن کی سازش ہے کہ وہاں مذہب کے نام پر اختلاف پیدا کرے اور یہ سازش پاکستان میں پہنچی ہے اور کویت میں آکر آئل ڈالر کے ذریعے اس نے نئے رنگ پکڑے ہیں اور پورا زور لگایا جا رہا ہے، جو ایک دفعہ پہلے بھی لگایا گیا تھا، ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے کہ کسی طرح افریقہ کے ایک حصے کو ہم چھین لیں اور گویا اس حصے کو پاکستان کا سیٹلائیٹ بنادیا جائے۔وہاں فساد پینے اور وہاں سے پھر فساد ایکسپورٹ ہو باقی افریقہ کے نام، یہ سازش ہے جس کے متعلق میں جماعت کو آگاہ کرتے ہوئے یہ متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے ایسے ہی موقعوں کے لئے فرمایا ہے وَ مِنْ شَرِ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ جب بھی حاسد حسد کرے گا اس وقت تم خدا کی پناہ میں آنا۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہماری تو ایک ہی پناہ ہے وہ خدا ہی کی پناہ ہے مگر شعوری طور پر خدا کی پناہ میں آنا ایک اور معنی بھی رکھتا ہے۔خدا کی پناہ تو ہر شخص مانگتا ہے جب کسی کو مصیبت پڑے، جب کشتیاں