خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 588 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 588

خطبات طاہر جلد 16 588 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء ڈوب رہی ہوں انسان کہتا ہے میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں یہاں تک کہ دہریے بھی خدا کی پناہ مانگنے لگتے ہیں مگر وہ پناہ مل بھی جائے تو فائدہ نہیں دیتی۔یہاں جس خدا کی پناہ میں آنے کا تعلق ہے وہاں وہ تمام امور جو حسد پیدا کرتے ہیں وہ نعمت کے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتے ہیں اور ان نعمتوں کا انکار انسان کر ہی نہیں سکتا اور ان نعمتوں کے ساتھ یہ فساد چمٹے ہوئے ہیں، حسد چمٹا ہوا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں نعمتیں عطا کروں گا تمہارے مراتب بڑھاتا چلا جاؤں گا۔ایک حالت سے تم دوسری حالت کی طرف ترقی کرو گے اس وقت اگر دشمن تمہیں تنگ کرے اور تمہارے خلاف منصوبے بنائے تو زج نہ ہونا۔یہ نہ سمجھنا کہ اللہ نے ایک ایسی نعمت عطا کی کہ اس کے ساتھ ایک اور مصیبت آگئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم خدا کی پناہ میں آؤ اور ان نعمتوں کی حفاظت خدا سے چاہو، جو نعمتیں عطا کرنے والا ہے وہ جانتا ہے کہ ان نعمتوں کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔مگر خدا کی پناہ میں آنے کا معنی کشتی نوح میں آتا ہے کیونکہ یہ آیت جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی یہ خلاصہ ہے خدا کی پناہ کا۔ایک کشتی بنائی جارہی ہے جو تباہی سے پہلے بنائی جارہی ہے اور یہ بھی ایک اہم مضمون ہے جو میں آپ کے سامنے کھولنا چاہتا ہوں۔مومن جب خدا کی پناہ میں آتا ہے تو مصیبت کے وقت نہیں آتا، مصیبت سے پہلے آتا ہے۔حضرت نوح جب خدا کی پناہ میں آئے اور آپ کے ماننے والے جب خدا کی پناہ میں آئے تو مصیبت کا کوئی تصور بھی نہیں تھا دور نزدیک کہیں اور مصیبت دکھائی نہیں دیتی تھی اس لئے خدا کی غیب کی طاقتوں پر ایمان رکھنے والے ہی تھے جو خدا کی خاطر پناہ مانگ رہے تھے اور پناہ میں آرہے تھے اس کے لئے محنت کر رہے تھے جبکہ دشمن کو ایسا کوئی عذاب کہیں دور نزدیک دکھائی نہیں دیتا تھا۔تو سب سے پہلے اہم بات یہ ہے کہ جب آپ امن میں ہوں اس وقت یہ جانتے ہوئے کہ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ کا مضمون آپ کی خاطر ایک نئے رنگ میں ظاہر ہوگا اس وقت خدا کی پناہ میں آئیں، اس وقت خدا سے پنا ہیں مانگیں امن کی حالت میں اور امن کی حالت میں جو پناہ مانگتا ہے اسے مصیبت کے وقت ضرور پناہ دی جاتی ہے اور جو امن کی حالت میں پناہ نہیں مانگتا مصیبت کے وقت اسے کوئی پناہ نہیں ملتی۔پس اب اپنی حالت کو اس پہلو سے درست کرو اور ہر جگہ ہمیں اس کی ضرورت ہے کیونکہ افریقہ کی ایک مثال میں نے آپ کو دی تھی۔امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں بھی احمد بیت ترقی کرے گی وہاں