خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 586
خطبات طاہر جلد 16 586 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997 ء ان کو آگ لگادی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ افریقہ ان کو مزید آگ لگا تا چلا جائے گا کیونکہ افریقن دماغ خدا کے فضل سے معتدل ہے۔افریقن دماغ میں انصاف پایا جاتا ہے میں بارہا پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ افریقن میں اگر چہ ظاہری طور پر کرپشن بھی ہے مگر اندرونی طور پر گہری کر پشن نہیں اور اس سلسلے میں میں تفصیل سے اگر آپ کو تجزیہ کر کے دکھاؤں، غالباً پہلے کر بھی چکا ہوں تو آپ تسلیم کریں گے کہ واقعہ اس کی جلد کالی ہے مگر اندر سے سفید ہے۔افریقن کا دل روشن ہے، ضمیر روشن ہے اور اس وجہ سے جب بھی احمدیت کے خلاف وہاں سازشیں ہوئیں تو افریقن لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بالکل سختی سے ان کو رد کر دیا۔گھانا کی ایک مثال ہے جس میں بار ہا دشمن نے کوششیں کیں ، شرارتیں کیں، میٹنگیں بلائی گئیں اسی رابطہ عالم اسلامی کے تحت مصر میں ایک دفعہ میٹنگ بلائی گئی اور افریقہ میں خصوصیت سے گھانا کو اس بات پر اکسایا گیا کہ احمدیت کے خلاف اٹھ کھڑا ہو لیکن گھانا کی جوتی کو بھی اس کی پرواہ نہیں۔افریقن کا ایک کردار ہے وہ یہ ہے کہ اگر منطق کی بات کرو تو ان کو بات سمجھ آتی ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔افریقہ کی بھی ایک تاریخ ہے جو اسی مرکزی نقطے کے گرد بنی گئی ہے۔تمام افریقہ کی تاریخ میں آپ کو مذہبی طور پر یہ بنیادی بات دکھائی دے گی کہ افریقہ کے ایک گھر میں کرسچئینز (Christians) بھی ہیں، بے مذہب بھی ہیں جن کو مختلف نام دیے جاتے ہیں مگر حقیقت میں وہ بت پرست نہیں ہوا کرتے۔ضروری نہیں کہ سب بت پرست ہوں دہریہ، بے خدا لوگ، ہر قسم کے لوگ اس میں شامل ہیں جن کو Pagan کہا جاتا ہے اور یہودی بھی ہیں مسلمان بھی ہیں۔ایک گھر میں سب بس رہے ہیں۔کسی کا ایک رشتے دار کچھ اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے کسی کا ایک رشتے دار کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے مذہب کی بنا پر خصوصیت سے گھانا نے فساد کو برداشت نہیں کیا اور اگر فساد برپا کئے گئے ہیں تو شمال میں ارادہ کئے گئے ہیں اور اکثر ایسے فسادات مسلمان کو مسلمان سے لڑانے والے فسادات تھے۔بہر حال میں آپ کو مختصرا افریقہ کا مزاج سمجھا رہا ہوں یہاں اگر مذہب کے نام پر فساد آیا ہے تو شمال سے نیچے اترا ہے جہاں بعض بگڑے ہوئے مسلمان علماء نے مذہب میں دخل اندازی شروع کی اور خود خدا بن بیٹھے۔سارے افریقہ میں جہاں بھی مذہب کے نام پر فساد آیا ہے شمال سے بھی صحرا کے پار نیچے اترا ہے یعنی افریقہ کا اپنا مزاج یہ نہیں ہے اور اس بات پر