خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد 16 568 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے اپنی ذات کو اس کے ہر پہلو میں خدا کے لئے خالص کیا ہے ویسا پہلے نبیوں کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ سب نبی پاک ہیں اس میں کوئی شک نہیں مگر سب سے اوپر ، سب سے بالا مقام احمد ہے۔وہ پا کی میں اور خلوص میں سب صلى الله۔نبیوں سے آگے بڑھے تو گویا پہلی دفعہ عبادت دنیا میں اس وقت ہوئی جب محمد رسول اللہ و تشریف لائے یہ گویا کے ساتھ ہے یعنی عبادت کا یہ منی اپنے درجہ کمل کو پہنچا کہ اول امسلمین پیدا ہو گیا۔ہم نے اس اول المسلمین کی اطاعت کا جوا اپنے کندھوں پر ڈالا ہے اس اول المسلمین کے پیچھے چل کر دنیا کو عبادت کے گر سکھانے ہیں یعنی اپنی ساری زندگی کو پھر اللہ کے لئے خالص کر لینا ہے پھر ہماری عبادتیں خدا کی عبادتیں ہوں گی ورنہ نماز میں رہتے ہوئے بھی خدا کے حضور سر جھکانا اور سرتسلیم خم کرنا یہاں تک کہ سجدہ ریز ہو جانا اگر نماز سے نکل کے دوسروں کے لئے اسی طرح سر جھکایا جائے اور دوسروں کی اطاعت میں انسان داخل ہو جائے تو بیک وقت دو بادشاہوں کی اطاعتیں نہیں چلا کرتیں ایک ہی حکومت ہے صرف اللہ کی اور اس حکومت میں یہ حکم ہے سب کو کہ جب بھی خدا کی مرضی سے ٹکرائے مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ تم اس مرضی کو خدا کے لئے مخلص کر دو تب تمہاری عبادت، عبادت ہے ورنہ وہ عبادت ، عبادت نہیں ہے۔یہ عبادت کا مفہوم جو میں نے آپ کے سامنے رکھا ہے بہت ہی مشکل ہے اور اتنا مشکل ہے کہ انسان اگر اپنی عبادت پر غور کرے تو اس کی کوئی عبادت بھی عبادت دکھائی نہیں دے گی۔میں اپنے سمیت آپ سب کو مخاطب کر کے خدا کے حضور یہ حقیقت حال عرض کر رہا ہوں کہ نہ میری عبادت کوئی عبادت ہے نہ آپ کی عبادت کوئی عبادت ہے ان معنوں میں جن معنوں میں یہ آیت کریمہ عبادت کی طرف بلا رہی ہے۔ہزار دنیا کی دلچسپیاں ہیں ہزار ایسے کام ہیں جن میں مبتلا رہے ہیں اور رہتے ہیں، کوشش کے باوجود مبتلا ہو جاتے ہیں جن کا آخری مقصود اللہ نہیں رہتا۔وہ اپنی ذات میں معصوم با تیں بھی ہوں تب بھی خالصہ للہ نہیں کی گئیں مثلاً آپ کھانا کھاتے ہیں اپنی مرضی کے اچھے سے اچھے کھانے کھائیں اور پکائیں اچھے سے اچھا پہنیں یہ جائز ہے اس کو شرک نہیں کہتے مگر خالصہ للہ نہیں ہے، مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ میں داخل نہیں ہے۔آنحضرت میہ اس مضمون میں بھی تمام بنی نوع انسان میں ہر فرد سے بڑھ گئے کہ آپ کا