خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 566 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 566

خطبات طاہر جلد 16 566 خطبه جمعه کیم را گست 1997 ء کی متابعت کریں گے اور ان پر چلنے میں کچھ مجبوری بھی داخل ہے۔اللہ جو دین بناتا ہے جس کو ہم شریعت کہتے ہیں وہ بھی دین کہلاتی ہے مگر اس میں مجبوری نہیں یہ وہ مقام ہے جہاں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کا اطلاق ہو رہا ہے۔دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں حالانکہ فطرت جو بنائی گئی ہے وہ جبریہ ہے ایک قسم کی کوئی انسان اپنی فطرت سے ہٹ سکتا ہی نہیں۔بڑے سے بڑا قاتل، مجرم، بڑے سے بڑا گنہگار بھی اپنے نفس میں ڈوب کے دیکھے تو اس کو فطرت کی وہی آواز دکھائی دے گی جس کی میں نے مثال دی ہے کہ غیروں کے اپنے ساتھ معاملے میں ان کی فطرت اٹھ کھڑی ہوگی ، بتائے گی کہ اصل قانون کیا ہے لیکن وہ دین جو انسان کو خدا تعالیٰ نے شریعت کے طور پر دیا ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس میں جبر نہیں ہے لیکن مسلک کا اپنا ایک جبر ہے اور وہ جبر ہے جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جومسلک درست ہواس سے ہنے کا نقصان ضرور پہنچتا ہے پس مسلک اپنے اندر خود ایک جبر رکھتا ہے جب آپ کہتے ہیں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ تو دنیا میں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہا جائے کہ جو چاہے آگ میں ہاتھ ڈال دے جو چاہے نہ ڈالے مگر آگ میں ہاتھ ڈالنا فطرت کے خلاف ہے آگ میں ہاتھ ڈالو گے اجازت تو ہو گی مگر ہاتھ ضرور جلے گا۔پس دین میں ایک اندرونی جبریت پائی جاتی ہے جو لَا إِكْرَاهَ کہنے کے باوجود نہیں بہتی۔چنانچہ قرآن کریم نے اس کے معا بعد جو مضمون بیان فرمایا وہ یہی ہے کہ پھر تم اپنے کئے کا نقصان اٹھاؤ گے۔اگر غلط کرو گے اس کا نقصان تمہیں پہنچے گا۔اگر صحیح کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں پہنچے گا۔پس اس پہلو سے لفظ دین کو آپ کو سمجھنا چاہئے یہ سارے معانی اپنے اندر رکھتا ہے۔اب اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُل اِنّى أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لهُ الدِّينَ۔اے محمد رسول اللہ علیہ یہ اعلان کر دے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں مُخلِصًا لهُ الدِّينَ اب یہاں الدین کے سارے معنی ہیں۔بادشاہ کا دین بھی ہوسکتا ہے، ملک کا دین بھی ہوسکتا ہے ہر قسم کے دین دنیا میں موجود ہیں یہاں تک کہ مشرک کے مسلک کو بھی قرآن کریم دین ہی قرار دیتا ہے لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ (الکافرون (7) مشرکوں کو مخاطب کرتے ہوئے جو اللہ کے سوا بتوں کی عبادت کرتے ہیں قرآن کریم فرماتا ہے لَكُمْ دِينَكُمْ وَنِى دِينِ۔صاف پتا چلا کہ دین کا معنی صرف مذہب لینا درست نہیں ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ قوانین کو محض دین نہیں کہا جا سکتا۔