خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 565 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 565

خطبات طاہر جلد 16 565 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء کہلاتا ہے اور انسان کے تعلق میں دین کہلاتا ہے کیونکہ باقی جانوروں سے پوچھ کچھ نہیں ہے اور ان کا اپنے اپنے مسالک پر چلنا ایک طبعی امر ہے۔لیکن انسان کو دو حصے دین کے ملے ہوئے ہیں ایک وہ دین جو اس کی فطرت میں گوندھا گیا ہے اس دین میں سے کچھ ایسا ہے جس پر اس کا چلنا لا زم ہے وہ اس سے ہٹ سکتا ہی نہیں۔کچھ ایسا ہے جس سے وہ ہٹ سکتا ہے اور اس ہٹنے والے حصے کا تعلق شریعت سے بھی ہے کیونکہ قرآن کریم دین کے اس تعلق میں بیان فرماتا ہے۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الروم: 31) یہاں جو فطرت ہے اسی کا نام قرآن کریم دین بھی رکھتا ہے۔وہ دین ہے جس پہ خدا تعالیٰ نے انسان کو چلایا ہے۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا یہ وہ دین ہے جو انسان کی فطرت میں داخل کر دیا گیا ہے۔یہ باتیں اس لئے سمجھانی ضروری ہیں جب میں آگے مضمون کو بڑھاؤں گا تو آپ سمجھیں گے کہ ان کا آپس کا ایک تعلق ہے۔فطرت میں جب خدا تعالیٰ نے جس کو دین فطرت کہا ہے دین اللہ، اللہ تعالیٰ اس کو فرماتا ہے اس میں انسان کے اندر ایک ایسا دین ہے جو اندر سے بولتا اندر سے اس کو بتاتا ہے اور اس کی آواز پر کان دھرنا اس کا اختیار انسان کو دیا گیا ہے۔فطرت جب بھی بولے گی سچ بولے گی ، فطرت کبھی بھی یہ تقاضا نہیں کرے گی کہ تم غلط رستے پر چلو اگر چہ بظاہر یہ تقاضا دل سے پیدا ہوتا ہے مگر وہ دین اللہ نہیں ہے، وہ فطرت نہیں ہے۔میں نے اس کی مثال آپ کے سامنے کئی دفعہ رکھی اور یہ سمجھایا کہ ہر انسان اپنی فطرت کے مطابق یہ سمجھتا ہے، فطرت کی آواز ہے کہ فلاں کا مال غصب کر لو وہ اندر سے آواز اٹھتی ہے جو دین اللہ نہیں ہے۔دین اللہ کی پہچان یہ ہے کہ ہر انسان پر برابر اطلاق پاتا ہے اس کے اندر Universality ہے۔چنانچہ ایک شخص اپنے متعلق جب اس کا حق غصب کیا جارہا ہوشدید غم و غصے کا اظہار کرے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ دین کی آواز نہیں ہے فطرت کی آواز یو نیورسل ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ یو نیورسل ہے اس نے تمام انسانوں کو ایک یونیورسل قانون کے مطابق جو بین الاقوامی ، عالمی قانون ہے اس کے مطابق پیدا کیا ہے تو دین اس مسلک کو کہتے ہیں جس پر آپ کو چلنے پر مجبور کر دیا گیا ہو یعنی اندر کی آواز ہمیشہ وہی رہے گی جو بچے دین کی آواز ہے۔دین دنیا کے بنائے ہوئے قوانین کو بھی کہتے ہیں یا بادشاہوں کے جاری کردہ قوانین کو بھی کہتے ہیں اگر آپ ان پر چلیں گے تو آپ دین