خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 550

خطبات طاہر جلد 16 550 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997ء کا کوئی اور نشان ظہور میں آنے والا ہے۔( مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ: 355) یہ جو اور نشان ہے یہ تحریر 19 جون کی ہے جس سے پہلے لیکھرام کا نشان اپنی بڑی شان وشوکت کے ساتھ پورا ہو چکا تھا۔پس 9 جون کے بعد پھر آپ کا یہ فرمانا کہ ایک اور نشان بڑی شان کے ساتھ پورا ہونے والا ہے اور اس کو انى مع الافواج اتیک بغتة “ کے ساتھ منسلک کرنا۔یہ بھی جماعت احمدیہ کے لئے ایک بہت عظیم خوشخبری ہے جو انشاء اللہ جلد پوری ہوگی۔پھر 29 جولائی 1897 ء کو آپ نے فرمایا: ان الذى فرض علیک القرآن لرآدک الى معاد۔اني مع الافواج اتیک بغتة پاتیک نصرتي اني انا الرحمان ذوالمجد والعلـی ( تذکرہ ایڈیشن چہارم : 257 )۔حضور علیہ السلام خود اس کا ترجمہ کرتے ہیں : یعنی وہ قادر خدا جس نے تیرے پر قرآن فرض کیا پھر تجھے واپس لائے گا یعنی انجام بخیر وعافیت ہوگا۔میں اپنی فوجوں کے سمیت ( جو ملائکہ ہیں) ایک نا گہانی طور پر تیرے پاس آؤں گا۔میں رحمت کرنے والا ہوں۔میں ہی ہوں جو بزرگی اور بلندی سے مخصوص ہے۔یعنی میرا ہی بول بالا رہے گا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا کہ مخالفوں میں پھوٹ۔۔۔اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور کے یہ ہوا کہ۔۔۔اہانت اور ملامت خلق ( اور اخیر حکم) ابراء یعنی بے قصور ٹھہرانا اور پھرا خیر حکم یہ بریکٹ میں ہے کہ آخری حکم جو خدا کی طرف سے نازل ہوا وہ ہے ابراء کسی کو بے قصور ٹھہرانا۔یہ مخالفوں میں پھوٹ اور ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق اس میں جو مخالفوں کی پھوٹ ہے یہ خاص طور پر آپ کے پیش نظر رہنا چاہئے کیونکہ اس سال کا یہ بھی ایک موضوع ہے کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین میں خدا تعالیٰ کی طرف سے پھوٹ ڈالی جائے گی اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے اور تتر بتر ہو جائیں گے۔پھر ساتھ اس کے یہ الہام ہوا کہ بلجت آیاتی “ کہ میرے نشان روشن ہوں گے اور ان کے ثبوت زیادہ سے زیادہ ظاہر ہو جائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اس مقدمے میں جو ستمبر 1899ء میں عدالت مسٹر جے آر یمنڈ میں عبدالحمید ملزم نے دوبارہ اقرار کیا کہ میرا پہلا بیان جھوٹا تھا۔( تذکرہ: 256) پھر 29 جولائی 1897ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک اور الہام ہوا لواء فتح یعنی فتح کا جھنڈا‘ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم : 256)