خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 551

خطبات طاہر جلد 16 551 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء 14 جنوری 1897ء کو ایک اور الہام ہوا ” میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنے سے خون ہوتا جاتا ہے۔میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولیٰ اور میرا قادر توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔غیر معبود ہلاک ہوں گے“۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم : 244) یہ اس سال کا مزاج ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو سال کے آغاز میں مطلع فرمایا گیا۔یہ سال توحید کا سال ہے اور تو حید اپنی ہر شان سے ظاہر وباہر ہوگی اور نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے چھکے گی۔فرمایا ”آخر تو حید کی فتح ہے غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنی خدائی کے جود سے منقطع کئے جائیں گے۔مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔خدا قادر فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عیسی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں۔سو اب اس نے چاہا کہ ان دونوں کی جھوٹی معبودانہ زندگی کوموت کا مزہ چکھاوے۔سواب دونوں مریں گے۔کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہوگا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتا لگے گا اور بعد اس کے تو بہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ نہ وہ ٹوٹے گا اور نہ کند ہو گا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت بہت قریب ہے کہ خدا کی سچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نورا تارنے سے۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی“۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم : 244) علامات کے درمیان جو میں نے یہ توحید کا ذکر کیا ہے اس میں بعض ایسے الفاظ ہیں جن کو