خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 549
خطبات طاہر جلد 16 549 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء کے ساتھ ناگاہ تیرے پاس آنے والا ہوں۔یہ کسی عظیم الشان نشان کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔( تذکرہ:242) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے شیخ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے نام جو خطوط لکھے ان میں 3 جنوری کے خط میں اس کا ذکر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مکتوب میں جو مارچ 1897ء کے بعد کا ہے، لکھا ہے اس جگہ ہندوؤں کے ہر روزہ مقابلہ سے نہایت کم فرصتی رہتی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے کوئی نشان دکھانے والا ہے۔(مکتوبات احمدجلد دوم صفحہ:354) یہ جو ہندوؤں کا ذکر خصوصیت سے کر کے اور یہ فرمایا گیا کہ خدا تعالیٰ کوئی نشان دکھانے والا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی عظیم الشان پیشگوئی پوری ہونے والی تھی جس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو احساس سا تھا اور واقعہ پھر وہ کیسے ہوئی میں یہ آج انشاء اللہ آج کی افتتاحی تقریر میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔12 مارچ 1897ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ لکھا ” میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے یہ بھی صاف لفظوں میں فرمایا گیا ہے کہ پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا اسلام کی طرف پر یہ زور سے رجوع ہوگا۔( تذکرہ: 247) اور خدا تعالیٰ کے فضل سے 7 189ء کے مقابل جو 1997 ء ہے اسی سال ہندوستان میں غیر معمولی تبلیغی تحریکات چل پڑی ہیں اور کثرت سے ہندو حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہم امید رکھتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ جیسا کہ سو سال پہلے پیشگوئی کی گئی تھی بڑے زور سے آگے بڑھے گا۔فرمایا 15 / مارچ کو اس تحریر کے وقت جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ میں قلم تھا اور آپ کچھ لکھ رہے تھے اس تحریر کے وقت ابھی ایک الہام ہوا ہے اور وہ یہ ہے ” سلامت بر تو اے مرد سلامت ( تذکرہ: 247)۔یعنی اے سلامتی بخش شخص تیرے لئے سلامتی ہے۔معلوم ہوتا ہے اس سال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کو کچھ خطرات درپیش تھے جن کے متعلق پہلے سے ہی اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دے دی کہ تیرے مقدر میں سلامتی ہے اور کسی قسم کے فکر کی ضرورت نہیں۔پھر 19جون 1897ء کے خط میں آپ فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ نہایت توجہ سے اس سلسلے کی مددکرنا چاہتا ہے۔یہ الہام کہ انى مع الافواج اتیک بغتة صاف دلالت کر رہا ہے کہ خدا تعالیٰ