خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 530
خطبات طاہر جلد 16 530 خطبہ جمعہ 18 / جولائی 1997ء سے بڑے مہمان نواز کے طور پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔سارے انگلستان کی جماعت اس وقت ہمہ تن مصروف ہے اور جن کو توفیق ہے وہ اپنے گھروں کو بھی ٹھیک کروا رہے ہیں۔آج کل آپ کو بہت سی ایسی شاپنگ ملے گی جو محض جلسے کی خاطر ہوتی ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ ہوتی رہے گی۔ان امور میں سب سے پہلے تو میں آنے والوں کے متعلق کچھ باتیں کہوں گا، پھر مہمان نوازوں کے متعلق بھی کچھ باتیں کہوں گا۔جہاں تک آنے والے ہیں ان کا تعلق محض خدا سے ہے، اللہ کی خاطر آئے ہیں۔یا یوں کہنا چاہئے کہ خدا کی خاطر ان کو آنا چاہئے اور دوسری ساری اغراض کو ایک طرف رکھ دینا چاہئے۔بسا اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ آنے والے کچھ اور نیتیں بھی ساتھ رکھتے ہیں جن میں سے ایک نیت یہاں پناہ ڈھونڈ نا یا یہاں نہیں تو یہاں کے بہانے بعض دوسری جگہ پناہ ڈھونڈنا ہے۔پناہ ڈھونڈ نا ان کا ایک حق ہے لیکن جلسے کو اس کے لئے استعمال کرنا ان کا حق نہیں ہے بلکہ جماعتی لحاظ سے یہ ایک بہت خطرناک جرم ہے۔ایسا کہ پھر زندگی بھر بخشا نہیں جائے گا۔اس لئے میں واضح طور پر آپ سب کو متنبہ کرتا ہوں۔اگر چہ لازماً بہت بھاری تعداد آپ میں سے ایسی ہوگی جو محض خدا کی خاطر آئے، خدا کی خاطر واپس جائیں گے۔کئی صرف چہرہ دیکھنے آتے ہیں، چہرہ دیکھ کے چلے جاتے ہیں۔اس کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہوتا مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو ہمیشہ پہلے بھی آتے رہے اور جلسہ سالانہ کا ناجائز فائدہ اٹھاتے رہے۔ایسے لوگوں کو جماعت سے نکال دیا گیا اور اب وہ جتنی چاہیں درخواستیں لکھیں اب ان کو دوبارہ جماعت احمدیہ میں داخل نہیں کیا جائے گا۔اسی حالت میں ان کی موت آئے گی کیونکہ انہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی بجائے دنیا کو دین پر مقدم کیا اور تمام مخلصین کو جو پاکستان میں محض جلسے کے لئے ترستے رہتے ہیں ان کو جلسوں سے محروم کر دیا۔یہ بڑا جرم ہے جو عام جرم نہیں ہے۔اب موت کے بعد ہی خدا تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا کہ کس حد تک وہ معافی کے لائق ہیں یا نہیں ہیں۔بات یہ ہے کہ اس سے پہلے انگلستان کی حکومت جماعت احمدیہ کو ہزاروں ویزے اس غرض سے دیا کرتی تھی کہ جلسہ پر آئیں، شوق سے اپنے مذہبی تہوار میں حصہ لیں اور واپس چلے جائیں لیکن دن بدن اس میں سختی ہونی شروع ہوئی کیونکہ بہت سے ایسے جنہوں نے ایمبیسی میں جا کر یہ عہد کیا کہ ہم محض جلسے کی خاطر جارہے ہیں اور واپس آئیں گے اس عہد کو توڑا اور یہاں آکر یہاں کی سہولتیں لینے کی خاطر وہ یہیں ٹھہر گئے۔شروع میں انگلستان کی حکومت نے ہاتھ ذرا آہستہ سخت کیا