خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 531 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 531

خطبات طاہر جلد 16 531 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997 ء ہے، پہلے ہزاروں کو اجازت دیا کرتے تھے پھر سینکڑوں کو دینے لگے یہاں تک کہ پھر سینکڑوں کو اجازت دیتے وقت بھی وہ متردد ہو جاتے تھے۔نظام جماعت کی طرف سے جو تصدیق کی جاتی تھی اس کو بھی انہوں نے نظر انداز کر دیا۔یہاں تک کہ نظام جماعت کی طرف سے جماعت کے نمائندوں کی جو تصدیق کی جاتی تھی اس کو بھی نظر انداز کرنے لگے اور یہ جماعت کے منہ پر ایک قسم کا تھپڑ تھا کہ تم دنیا میں دینی اخلاق اور دینی اقدار کی حفاظت کرنے والے لوگ ہو، یہ تمہارا حال ہے کہ جلسہ پر آنے کے لئے جلسے کو اسائکم کے لئے یعنی یہاں پناہ ڈھونڈنے کے لئے ایک بہانہ بنالیا۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جو اس غرض سے یہاں آئے اور کسی اور غرض کے لئے ٹھہر جائے۔ایک بھی ایسا نہیں ہو گا جو کسی اور ملک میں جانے کے بہانے یہاں سے فائدہ اٹھائے اور پھر جا کر کہہ دے کہ ہم نے تو ملک چھوڑ دیا ہے۔اب یورپ کا نظام اس قسم کا ہو گیا ہے کہ اگر ایک ملک کسی کو ویزا دیتا ہے اور وہ یورپ میں کہیں بھی پناہ لیتا ہے اس کی ذمہ داری اس ملک پر ڈالی جاتی ہے جس نے ویزا دیا تھا اور اس کے نتیجے میں انہیں خفت اٹھانی پڑتی ہے اس لئے اس جلسہ پر تو یہ نہیں ہوگا اور اگر ہوگا تو اس کے نتائج کے لئے آپ تیار رہیں۔خدانخواستہ اگر ایک آدمی بھی ایسا نکلا جس نے جلسے سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور دنیا داری کو اپنا لیا تو اس کو میں یقین دلاتا ہوں کہ ساری عمر اس کی معافی کی درخواست زیر غور نہیں آئے گی۔ہمیشہ ہمیش کے لئے وہ جماعت سے نکالا گیا ہے اور اسی حالت میں وہ مرے گا۔اس سے پہلے بعض لوگ کچھ سال درخواستیں دینے کے بعد یہ لکھنا شروع کر دیتے تھے کہ ہمارا تو بہت برا حال ہے جماعت کے بغیر ہم تو تڑپ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی کے بغیر تڑپ رہی ہے ہمیں داخل کرو۔میں ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ جس گندے پانی کو تم نے اپنا لیا ہے اس گندے پانی میں رہو اور ہمارے شفاف پانی کو اسی طرح رہنے دو۔اب مرتے دم تک تمہارا اس پانی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔صرف ایک یا دو ایسے معاملات ہوئے تھے جن میں ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ واقعہ ہمارے دل کو تکلیف ہے تو ہم یہاں کی درخواستیں واپس لیتے ہیں ہمیں حکومت نے جو سہولتیں دی ہیں ، جو پاسپورٹ دئے ہیں سب واپس کرتے ہیں اور واپس اپنے ملک میں جاتے ہیں اور واقعہ انہوں نے ایسا کیا۔یہاں کا منظور شدہ ان کا جو حق تھا یا حق نہیں لیکن گورنمنٹ نے حق سمجھا منظور کر لیا اسے انہوں نے واپس کر دیا اور کہا کہ ہماری غلطی تھی ہم نے احمدیت کو بہانہ بنایا تھا اس لئے ہم