خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 515
خطبات طاہر جلد 16 515 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997ء زمینیں تھیں ، وہاں جا کے کام کیوں نہ کیا لیکن احمدیت کو جب خدا تعالیٰ زمینیں عطا کرنے لگتا ہے تو ان کو جوش آجاتا ہے ان زمینوں پر قبضہ کی کوشش کرتے ہیں جن پہ احمدیت قبضہ کر رہی ہے۔یہی چیز ہندوستان میں بھی ظاہر ہوئی ہے، پتا نہیں کب سے سوئے پڑے مولوی جن کو نہ مسلمانوں کے اخلاق کی فکر ، نہ ان کے کردار کی طرف توجہ نہ ان کے ایمان اور عقائد کے متعلق کوئی فکر ، اپنے اپنے ڈیرے لگائے ہوئے اپنی اپنی سیادت پر راضی بیٹھے تھے جب دیکھا کہ جماعت احمد یہ پھیل رہی ہے تو اس کی تکلیف پہنچی ہے، شرک کے پھیلنے کی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔چنانچہ سارے ہندوستان میں جب شرک پھیل رہا تھا اور جھوٹے خداؤں کی عبادت کرنے والے شرک پھیلا رہے تھے کھلم کھلا اس وقت ان کو کوئی ہوش نہیں آئی۔جماعت احمدیہ ہی تھی جو اس وقت بھی ان لوگوں سے نبرد آزما تھی۔اب چونکہ ہندوستان کی توجہ جماعت کی طرف ہو گئی ہے اس لئے مولوی بہت اٹھ کھڑا ہوا ہے، بہت جوش دکھا رہا ہے۔اس پر جب ان کی گالیاں سنیں اور لوگوں نے مجھ تک پہنچائیں تو میں نے جماعت کو یہی تاکید کی کہ آپ صبر سے کام لیں اور صبر کا یہی وقت ہوا کرتا ہے اس سے پہلے آپ کا حسن خلق دکھانا اور یہ کہنا کہ دیکھو ہم بڑا صبر کر رہے ہیں کوئی معنی نہیں رکھتا۔جب آزمائش آئے اور آزمائش کے مقابل پر صبر مضبوطی سے اپنے پاؤں پر قائم رہے اور آندھیوں کے مقابل پر وہ اس طرح استقامت دکھائے جیسے مضبوط جڑوں والے درخت آندھیوں کے مقابل پر کھڑے ہو جاتے ہیں یہ صبر ہے اور ان لوگوں کی پرورش خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔اور اَرْضُ اللهِ وَاسِعَةُ کا مطلب ان معنوں میں یہ بنتا ہے کہ اگر تم ایک تھے تو تمہیں پھیلا دیا جائے گا اور زیادہ زمینیں تمہارے سپرد کر دی جائیں گی اور خدا کی زمینیں بہت ہیں اس لئے فکر نہ کرنا تمہارے پاؤں تلے سے زمین نہیں نکالی جائے گی بلکہ تمہاری زمین بڑھائی جائے گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہی ہوا۔ہندوستان میں جب سے جماعت احمد یہ شروع ہوئی ہے آج تک اتنی بیعتیں نہیں ہوئیں جتنی اس سال ہوئی ہیں جبکہ مولویوں نے اپنا پورا زور مار دیا تھا، ہر طرح کے ہتھیار استعمال کئے ، ہر طرح کے حربے اختیار کئے یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بے انتہا بکواس اور گندگی اچھالی گئی اور علاوہ ازیں نواحمدیوں پر بدنی ظلم کئے گئے۔بعض علاقوں میں گاؤں کے گاؤں ان پر چڑھ آئے اور اب خدا کے فضل سے اسی ظلم کے سائے تلے