خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 516

خطبات طاہر جلد 16 516 خطبہ جمعہ 11 / جولائی 1997ء جماعت احمد یہ آگے بڑھی ہے اور بعض علاقوں میں جہاں یہ ظلم ہورہا تھا میں نے ان کو تاکید کی تھی کہ تم نے رکنا نہیں، یہ تم عہد کرو اور یہ صبر کا حصہ ہے۔جو مرضی ہو تم صبر کے ساتھ ذکر الہی کرتے ہوئے آگے بڑھو اور ضرور تم کامیاب ہو گے۔چنانچہ آج ہی کی ڈاک میں مجھے یہ خط دکھائی دیا اور یہ اس جمعہ سے تعلق رکھنے والا ہے۔ایک دوست لکھتے ہیں یعنی ایک علاقے کے منتظم اعلیٰ ہیں وہ کہتے ہیں جہاں پہلے ہمیں مار پڑا کرتی تھی وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور بعض گاؤں اپنی مسجدوں سمیت احمدی ہو گئے ہیں اور انہوں نے مولویوں کو کہلا بھیجا ہے اب اگر تم آئے تو اپنی خیر منا کے آنا۔میں نے ان کو تاکیدا لکھا ہے فوری طور پر کہ اب ان کو بھی صبر کی تلقین کرو لیکن جب انسان کثرت سے دیکھتا ہے تو بعض دفعہ ایسے جوش کے اظہار ہو بھی جاتے ہیں ان کو سمجھانا ہے پیار سے اور یہ میرا پیغام براہ راست ان کو پہنچ رہا ہوگا، وہ غور سے اس بات کو سن لیں کہ اب جبکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ان علاقوں میں بھی غلبہ عطا کیا ہے جن میں پہلے غیروں کا قبضہ تھا جو آپ پر ظلم کیا کرتے تھے آپ کا غلبہ اس وقت ہوگا جب آپ اسلام کی تعلیم کے مطابق غلبہ حاصل کریں گے اور اس غلبے میں مظلومیت شامل ہے۔آپ کی مظلومیت آپ کے ہاتھ سے نہیں جانی چاہئے۔اگر عددی کثرت ہو اور اس کے باوجود بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے انسان جسمانی بدلہ نہ لے تو یہ مبر ہے۔اگر جسمانی طاقت نہ ہو اور انسان خاموش بیٹھا ر ہے تو اس کو صبر نہیں کہا جا تا خواہ صبر ہو بھی مگر صبر دکھائی نہیں دے گا وہ صبر دکھائی اس وقت دے گا جب جسمانی غلبہ ظاہر ہو چکا ہو اور پھر دوسروں کو ظلم کا حوصلہ ہو اور غالب آنے والے جانتے ہوئے کہ ہم طاقتور ہیں اپنے ہاتھ روک لیں وہ روکنا خدا کی خاطر ہو گا۔پس ان احمدیوں کو میری نصیحت ہے، میرا خط تو نہ جانے کب پہنچے گا لیکن اس خطبے کے ذریعے وہ خوب سن لیں کہ ان سب علاقوں میں جہاں خدا تعالیٰ نے آپ کو غلبہ عطا فرمایا ہے آپ کی تعداد کی وجہ سے نہیں فرمایا، آپ کی مظلومیت کی وجہ سے غلبہ عطا فرمایا ہے، آپ کے صبر کی وجہ سے غلبہ عطا فرمایا ہے اگر مظلومیت ہی ہاتھ سے جاتی رہے اور صبر ہی جاتا رہا پھر خدا کا یہ وعدہ کہ إِنَّمَا يُوَفَّى الصّبِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابِ یہ آپ سے واپس لے لیا جائے گا۔پس جو بے حساب مل رہا ہے اس کو چھوڑ کر اسی پرانے حساب کے مطابق ایک ایک دو دو