خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 514

خطبات طاہر جلد 16 514 خطبہ جمعہ 11 جولائی 1997 ء بہت نقصان پہنچے گا۔یہ تبصرہ تھا جو اس ملک کے رہنے والے کر رہے تھے اور پریشان تھے۔دوسرا فکر ہمارے مربیوں کو اور امراء کو یہ لاحق ہوا کہ جماعت بڑی جو شیلی ہے اور ان کے گند بولنے سے اور ان کے بکواس کرنے کے نتیجے میں ہو سکتا ہے ان کو جوش آجائے اور جوش کے نتیجے میں پھرایسی کارروائیاں ہوں جو جماعت کے اصول کے خلاف ہیں اور وہ ان دشمنوں کو فائدہ پہنچائیں گی ہمیں فائدہ نہیں پہنچائیں گی۔اگر قتل و غارت شروع ہو جائے ، اگر مخالف فریق کے کچھ آدمی مارے جائیں اور احمدیت کو بظاہر اس پہلو سے غلبہ ہو تو یہ غلبہ نہیں ہے۔غلبہ یہ ہے کہ اپنے بے شک مارے جائیں مگر کثرت سے اور پھیلیں اور یہ غلبہ صبر کا غلبہ ہوا کرتا ہے اس لئے میں نے اس آیت کی تلاوت کی ہے کہ آپ کو سمجھاؤں کہ صبر کیا ہوتا ہے اور اس کے کیا نتیجے نکلتے ہیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کو وہاں بار بار میں نے پیغام بھجوائے اور تاکید کی کہ تم نے صبر کا دامن نہیں چھوڑ نا اور جوابی کارروائی ضرور کرنی ہے لیکن ان حدود میں رہتے ہوئے جن کی اسلام اجازت دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری جماعت اٹھ کھڑی ہوئی اور صبر کو پکڑے رکھا لیکن بڑے زور سے جوائی کارروائی کی اور یاد رکھیں کہ جوابی کارروائی جو صحیح رستوں پر چلتی ہے وہ صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔وہ لوگ جو صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں اور جنگ و جدال پر اتر آتے ہیں ان کے جوش اسی میں نکل جاتے ہیں سارے۔کچھ ان کے مارے گئے اور معاملہ ختم ہو گیا۔جن کو کہا جائے کہ تم نے صبر سے کام لینا ہے اور اپنے غصوں کو نکالنا نہیں وہ مجبور ہو کر اچھی باتوں پر اپنے جوش کو صرف کرتے ہیں وہی جوش جو لوگوں کو مارنے پر صرف ہونا تھا وہ تبلیغ کرنے پر صرف ہوا۔وہی جوش احمدیت کی خوبیاں دکھانے پر صرف ہونے لگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دشمن کی تدبیر اس بری طرح ناکام ہوئی کہ وہ سارے راہنما جو اس تدبیر کے راہنما تھے وہ یا تو اپنے مناصب سے ہٹا دئے گئے یالکھ لکھ کر جماعت سے معافیاں مانگنے لگے اور اقرار کیا کہ یہ غلط کام ہورہا تھا۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ خدا تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بہت جزا دیا کرتا ہے ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے پورا ہوتا دیکھ لیا۔پس تمام دنیا میں یہی کوششیں جماعت کے خلاف جاری ہو چکی ہیں جہاں جہاں یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ جماعت کو خصوصیت سے کامیابی نصیب ہوئی ہے وہاں ایک مخالفانہ چال ضرور چلی جاتی ہے وہ سارے مولوی جو سوئے ہوئے تھے ایک دم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اس سے پہلے بھی تو خدا کی