خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد 16 46 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء آپ کی اولاد کی تربیت آپ کے لئے آسان ہو جاتی ہے۔ایک ماحول بنا ہوا ہے، اٹھ رہے ہیں روزوں کے وقت افطاری کے وقت اکٹھے ہو رہے ہیں۔اس وقت عام طور پر لوگ مختلف گئیں مار کے اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔سحری کے وقت بھی میں نے دیکھا ہے یہ رجحان ہے کہ ہلکی پھلکی باتیں کر کے تو ہنسی مذاق یا دوسری باتوں میں سحری کے وقت کو ٹال دیتے ہیں اور یا ضائع کر دیتے ہیں۔اسی طرح افطاری کا حال ہے۔تو میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو سکے سحری اور افطاری کو تربیت کے لئے استعمال کریں اور تربیت کے مضمون کی باتیں کیا کریں اور اعلیٰ بڑے دینی مقاصد کی گفتگو اگر بہت بوجھل ہو تو یہ چھوٹی چھوٹی روز مرہ کی باتیں یہ تو سمجھائی جاسکتی ہیں۔پھر فرمایا ہے وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کہ اگر تم روزے رکھو تو یہ بہت بہتر ہے اِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم اس بات کو جانتے۔یہاں جب اجازت دے دی ہے فدیہ کی اور اگر مریض ہو یا سفر پر ہو تو ہدایت یہ فرمائی ہے کہ پھر بعد کے ایام میں روزے رکھو تو سوال یہ ہے کہ پھر وَاَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ کا کیا مطلب ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیمار ہو تب بھی رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔سفر پر ہو تب بھی رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ فدیے تو تم دے دو گے لیکن روزے نہیں اس سے کٹ جائیں گے، روزے کا فریضہ قائم رہے گا۔اس لئے فدیہ دے کر یہ نہ سمجھو کہ روزے کے فرض سے تم بری الذمہ ہو گئے ہو۔فدیہ دو اور وہ بھی تمہارے لئے بہتر ہے لیکن روزے اپنی ذات میں ایسے فوائد رکھتے ہیں کہ جب بھی تمہیں تو فیق ملے تم ضرور رکھو۔وَأَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کا ایک معنی تو یہ ہے کہ تم اگر غور کرو تو یہ بات سمجھ لو گے کہ روزوں میں اور بھی بہت سی خیر میں اور برکتیں ہیں اور اس سے فائدہ اٹھانا تمہارے اپنے فائدے کی بات ہے لیکن اِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ میں ایک مضمون کاش کا بھی پایا جاتا ہے کہ اے کاش تمہیں معلوم ہوتا کہ روزے میں کیا کیا فوائد ہیں اور اگر یہ معلوم ہوتا تو تَطَوَّعَ خَيْرًا کا مضمون روزوں کے ساتھ بھی چسپاں ہو جاتا۔پھر تم کوشش کرتے کہ صرف رمضان کے فرض روزے ہی نہ رکھتے بلکہ تَطوَّعَ خَيْرًا کا مضمون روزوں کے ساتھ بھی چسپاں ہو جاتا۔پھر تم کوشش کرتے کہ صرف رمضان کے فرض روزے ہی نہ رکھتے بلکہ تَطوَّعَ خَيْرًا کے