خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد 16 45 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء حوالے سے غربت کو دور کرنے کی طرف متوجہ کرنا اور غریبوں کی نگہداشت کرنا ، ان کا خیال رکھنا ، ان کے دکھ بانٹنا یہ سارے وہ مضامین ہیں جو بڑی عمدگی کے ساتھ بچوں کو سمجھائے جا سکتے ہیں اور جب آپ سمجھا ئیں گے تو خود بھی آپ کو پہلے سے زیادہ اس طرف توجہ ہوگی۔فِدْيَةٌ کے متعلق صرف ایک مشکل یہ ہے کہ انگلستان میں اور یورپ اور امریکہ کے بہت سے دوسرے، یورپ اور امریکہ جیسے اور بھی کئی ممالک ہیں مثلاً جاپان ہے جو روزمرہ کے کھانے کو کوئی خاص اہمیت دیتے ہی نہیں ، کیونکہ ان میں اکثر لوگ روز مرہ کے کھانے کی توفیق ایسی رکھتے ہیں کہ وہ زائد عیاشی اور عیش وعشرت کے لئے تو پیسے چاہتے ہیں کھانا ان کا مسئلہ ہی کوئی نہیں ہے جو مرضی کھائیں اور اتنی کمائی ضرور کر لیتے ہیں کہ وہ آسانی سے پیٹ بھر سکتے ہیں۔زوائد کے لئے ، شرابیں پینے کے لئے ، عیش وعشرت کے دوسرے سامانوں کی خاطر اگر کچھ نہ ان کو ملے تو وہ اس کو غربت سمجھتے ہیں لیکن ان کی توجہ اس طرف جاتی ہی نہیں کہ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آتی۔اگر ایک وقت کی روٹی بھی میسر آجائے تو وہ بھی بڑی غنیمت سمجھی جاتی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ یہاں کیسے آپ کو یہ توفیق مل سکتی ہے۔فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكَيْنِ کی۔دو تین طریق ہیں۔ایک تو یہ کہ جو غریب ممالک ہیں ان کے لئے آپ فدیے بھیجیں۔اگر چہ وہ ذاتی تعلق جو غریب کی براہ راست خدمت سے قائم ہوتا ہے وہ تو نہیں ہو سکے گا لیکن ایک کچھ نہ کچھ بدل تو ضرور ہے۔پس اس مہینے میں اپنے بچوں کو بھی اس بات پر آمادہ کریں کہ اگر چہ روزے تم پر فرض نہیں ، فدیہ فرض نہیں ہے مگر قرآن تو فرما رہا ہے فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا پس جو بھی نیکی شوق سے کرتا ہے نفلی طور پر کرتا ہے تو اس کے لئے بہت بہتر ہے۔تو کچھ اپنے غریب بھائیوں کے لئے خواہ دنیا میں کہیں بھی بستے ہوں، ان کے لئے کچھ اپنے جیب خرچ سے نکالو اور روزمرہ کوئی نہ کوئی صدقہ خدا کی خاطر دے دیا کرو تو اس طرح بچپن ہی سے ان کے دلوں میں غریب کی ضرورت کا احساس پیدا ہو جائے گا اور جو اپنی طرف سے، اپنے اکٹھے کئے ہوئے پیسوں میں سے کچھ دیں گے خواہ وہ معمولی رقم ہی کیوں نہ ہو وہ ان کے لئے ایک بہت بڑی رقم بن جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے دل پر نظر رکھتا ہے اور بعض دفعہ ایک بچے کا چھوٹا سا خرچ بھی اس کی ساری زندگی سنوار سکتا ہے۔تو دیکھو رمضان میں کیسے اعلیٰ اعلیٰ مواقع آپ کو نصیب ہوتے ہیں اور کس طرح روزمرہ