خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد 16 47 خطبہ جمعہ 17 / جنوری 1997ء تا ربع نفلی روزے بھی بہت رکھتے مگر تمہیں پتہ نہیں کہ روزے کے فائدے کیا کیا ہیں۔اس نقطہ نگاہ سے روزے کے فوائد کے تعلق میں میں آپ کے سامنے چند اور باتیں بھی رکھنا چاہتا ہوں۔ایک تو ایسی بات ہے جس کا غریب ملکوں سے زیادہ امیر ملکوں سے تعلق ہے۔غریب ملکوں میں فاقہ کشی کی مصیبت ہے جس کا ذکر فدیے کے تعلق میں میں نے کیا ہے۔امیر ملکوں میں زیادہ کھانے کی مصیبت ہے اور غذا کی بہتات جو ہے اس نے مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔اس لئے یہاں کے جتنے بھی اشتہار اور پروگرام وغیرہ آپ دیکھتے ہیں ان میں یہ نسخے بتائے جاتے ہیں کہ موٹاپا کیسے دور کرنا ہے اور اس کے لئے نئی نئی ترکیبیں ایجاد ہو رہی ہیں، نئی نئی دوائیاں بن رہی ہیں۔اب کسی بھو کے ملک میں جا کر آپ یہ اشتہار شائع کریں تو لوگ اشتہار پھاڑ کے اشتہار لکھنے والوں کی جان کے درپے ہو جائیں مگر یہاں یہی بیماری ہے۔بہتات کوئی چیز حد سے زیادہ دستیاب ہو پتا نہ ہو کہ کیا کرنا ہے اس کا۔اب پیچھے جب وہ ان کی کرسمس گزری ہے تو کھا کھا کے انہوں نے ستیا ناس کر لیا اپنی صحت کا۔دن رات چرنے کا شغل تھا کہ اس طرح کرسمس منائی جارہی ہے اور کسی نے کہا کہ سب کچھ، ساری دولت کرسمس کے دن گندی نالیوں میں بہا دینا یہ مدعا معلوم ہوتا ہے کرسمس کا۔تو خدا تعالیٰ دونوں طرف نصیحت فرماتا ہے۔ایک طرف ان لوگوں کے لئے جن لوگوں کے پاس نہیں ہے ان کے لئے کئی نصیحتیں ہیں رمضان میں اور پھر ان کے لئے بھی جن کے پاس بہت کچھ ہے بہت سی نصیحتیں ہیں۔ایک یہ تھی جس کا میں نے ذکر کیا کہ اپنے غریب بھائیوں کا خیال کرو، روزے کی بھوک کی جب تکلیف پہنچے اس وقت سوچا کرو کہ خدا کے کتنے بندے ہیں جو روزمرہ کی معمولی ضرورتوں کے بھی محتاج بنے بیٹھے ہیں ان کے پاس کچھ نہیں ہے کھانے کو اور پھر اس کے نتیجے میں جو تقویٰ پیدا ہو وہ ان چند ایام تک محدود نہ رہے بلکہ جیسا کہ میں نے قرآن کریم کی آیت سے استنباط کیا ہے وہ مستقل تمہاری دولت بن جائے۔ايَّا مَا مَّعْدُودَت کی تکلیف ایسے غریب بھائیوں کی تکلیف کا احساس دلائے جو ہمیشہ بھوکے رہتے ہیں کسی رمضان کی وجہ سے تو بھوکے نہیں رہتے۔تو ایک عارضی تکلیف ایک مستقل راحت کا سامان پیدا کر دے گی اور جو تمہیں سکون نصیب ہو گا غریبوں کو کھانا کھلا کر اور غریبوں کی خدمت کے ذریعے یہ سکون مستقل ہو جائے گا اور بھوک کی تکلیف عارضی تھی۔پس دوسرا پہلو جو اس کا