خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد 16 388 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء ہیں وہ ہو کون سکتا ہے جو ہمیں ان سرچشموں سے جدا کر کے الگ کرے۔ان کو میں نے سمجھایا کہ آپ کن باتوں میں پل رہے ہیں حضرت صالح کو اس چشمے سے کس نے ہٹایا تھا جس چشمے کے سرداروں میں آپ شامل تھے اور قوم اقرار کرتی تھی کہ اے صالح تو ہمارے بڑے لوگوں میں سے ہے۔مگر جب خدا کی خاطر آپ اللہ تعالیٰ سے وفا کرتے ہوئے قوم سے الگ ہوئے تو قوم نے ان کو چھوڑ دیا بلکہ اسی سر چشمے پرحملہ کیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں جو وہاں سے پانی پیا کرتی تھی۔تو طرح طرح سے ان کو سمجھایا کہ دیکھو اپنی طاقت پر انحصار نہ کرنا۔بہت بڑی کامیابیاں بظاہر اللہ نے عطا فرمائی ہیں مگر ان کی حفاظت اسی طرح ہوگی جس طرح میں بتا رہا ہوں اور وہ سنتے تھے اور کئی ان میں سے سر جھکاتے تھے ادب سے اور آخر پر میں یہ دیکھتا تھا کہ ان باتوں کا احترام اپنی جگہ لیکن اپنی بڑائی کا یقین الگ اور چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس کو ہم نیکی کے رستے پر استعمال کریں گے اس لئے وہ اس سے گھبراتے نہیں تھے۔میں نے ان کے مبلغ کو بعد میں بھی توجہ دلائی۔میں نے کہا دیکھو یہ میں نے محسوس کر لیا ہے، مجھے فکر ہے، اللہ تعالیٰ ان کو اپنی پناہ میں رکھے۔چنانچہ ویسے ہی واقعات رونما ہوئے۔جہاں سب سے زیادہ توقعات تھیں بیعتوں کی وہاں سب سے کم نکلیں کیونکہ سیاسی لحاظ سے ان کی مخالفت ہوئی اور مخالف دھڑے اٹھ کھڑے ہوئے اور جب انہوں نے ان کی سیاست پر حملہ کیا جس کی پناہ میں وہ تھے اس سیاست نے ان کو کوئی پناہ نہیں دی۔پس یہ وہ بات ہے جسے سمجھانے کی ضرورت ہے باقی کسی ملک میں ان غلطیوں کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔اگر آپ یہ لکھتے ہیں کہ فلاں جگہ ہمیں اتنے بڑے بڑے چیف مل گئے ، اتنے ملک کے بادشاہ مل گئے اتنے ممبر پارلیمنٹ مل گئے تو آپ کی تحریر میں بعض دفعہ ان کی بڑائی کا اس طرح ذکر ملتا ہے جو شکر سے الگ گویا ان کو خدا کے مقابل پر بت بنا رہا ہو۔پس یہ میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں ساری دنیا میں ترقی پانے والے ممالک کو کہ ہرگز ان کو وہ اہمیت نہ دیں جو ان کو بت بنادے۔ان کی عزت کریں ، ان کا احترام کریں۔آنحضرت ﷺے آنے والوں میں سے ادنیٰ سے ادنی کے لئے بھی صلى اللهم اٹھ کھڑے ہوتے تھے مگر وہ عزت اس بناء پر نہیں تھی کہ گویا ان سے محمد رسول اللہ یہ وابستہ ہیں۔صلى الله اس بناء پر تھی کہ وہ محمد رسول اللہ سے وابستہ رہیں گے تو عزت پائیں گے۔ان دو چیزوں میں بہت فرق ہے۔