خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد 16 389 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء پس پہلی بات جو اس سال کے تعلق میں اور آئندہ صدی پر اثر انداز ہونے والی میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں وہ یہ بات ہے کہ اللہ کے فضل سے ہمیں بہت ترقیات مل رہی ہیں۔ہر ملک کا فرض ہے کہ آنے والے کو بتائے اور سمجھائے یہ طاقتیں تمہارے کوڑی کی بھی کام نہیں آئیں گی اگر تم نے ان طاقتوں کو خدا کے حضور سجدہ ریز نہ رکھا اور سہارا خدا کا نہ سمجھا ، ان کو سمجھ لیا۔اگر تم نے ان کو سہارا سمجھا تو تمہارے سہارے ٹوٹ جائیں گے اور پھر تمہاری طاقتیں ہمارے کسی کام بھی نہیں آئیں گی۔ہوسکتا ہے یہی طاقتیں عالمی جمعیت کی راہ میں حائل ہو جائیں اور فتنے پیدا کرنے کا موجب بنیں۔ہو سکتا ہے نئی قو میں جو زیادہ طاقت کے ساتھ جماعت میں داخل ہوں وہ اٹھ کھڑی ہوں اور وہ کہیں کہ ہمیں کیا ضرورت ہے ایک مرکز کی اطاعت کرنے کی۔ہم نظام جماعت کو سمجھ رہے ہیں، ہم احمدیت کو جانتے ہیں، عبادت کرتے ہیں اور یہی ہمارے لئے کافی ہے اس لئے کوئی ضرورت نہیں کہ ایک نظام سے بندھے رہیں اور اس قسم کے فتنے وہاں ضرور اٹھیں گے۔آپ دیکھنا آج نہیں تو کل ایسے فتنے اٹھائے جائیں گے۔آج ان کی سرکوبی کے سامان کریں تب آپ خدا کی آنکھ سے دیکھ رہے ہوں گے جو تقویٰ کی آنکھ ہے۔اس لئے حرص کے ساتھ ان پر نظر نہ ڈالیں ،خوف سے نظر ڈالیں۔تکبر کے ساتھ نہیں ، رحم کے ساتھ نظر ڈالیں۔دیکھیں کہ ان لوگوں بیچاروں کو کیا کیا مصیبتیں آنے والی ہیں اور اس کا حل ابھی سے کریں۔جو سب سے بڑا حل یہ ہے کہ نئے آنے والوں کو ذاتی طور پر اللہ کے تعلق سے باندھنا شروع کریں۔جو بھی ان میں سے خدا کے ساتھ باندھا گیا اس کی حفاظت آپ نہیں کریں گے، اللہ کرے گا اور اسی طریق سے قوموں کی حفاظت ہوا کرتی ہے۔کثرت سے ان میں خدا والے لازماً پیدا کرنے پڑیں گے اور اس کے بغیر ان قوموں کی حفاظت ممکن نہیں ہے۔اس کے لئے ابھی سے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا تربیتی اجلاسوں کی اور تربیتی کلاسز کہتے ہیں انگریزی میں مگر اردو میں بھی یہ لفظ جاری ہو گیا ہے تربیتی کلاسز کے اجراء کی ضرورت ہے۔جن ممالک میں عمدگی سے ہوا ہے وہ لکھ رہے ہیں کہ خدا کے فضل سے بہت بڑا فائدہ پہنچا ہے۔جرمنی کے دورے میں بھی میں نے یہی محسوس کیا کہ جہاں نئے آنے والوں میں سے آدمی چنے گئے اور ان کو تربیت دے کر اپنی قوم کے لئے مقرر کیا گیا وہاں غیر معمولی طور پر خدا کے فضل سے برکت نصیب ہوئی۔صرف تربیت کے لحاظ سے نہیں تبلیغ کے لحاظ سے بھی۔ان میں اپنی قوم میں تبلیغ