خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 387
خطبات طاہر جلد 16 387 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء قبول کرنے کے نتیجے میں ہوئی ہیں اور اب از سرنو جو یہ دور چلا ہے اب بھی شکر کی قبولیت کا دور ہے۔آپ کو جو تو فیق مل رہی ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کی وجہ سے مل رہی ہے۔پس اپنے شکر کو بڑھائیں، اپنے شکر کی حفاظت کریں۔جب آپ شکر کی حفاظت کریں گے تو دنیا کی طاقتیں آپ کو معمولی دکھائی دیں گی۔وہ اتفاقاً حادثات ہیں جو شکر کے نتیجے میں آپ کے قدموں پر گرائے گئے ہیں۔وہ اس قابل نہیں کہ آپ ان کے قدموں میں گریں۔پس دنیا کی طاقتوں کو کوئی اہمیت اس پہلو سے نہ دیں کہ گویا وہ آپ کا سہارا ہیں۔اس پہلو سے اہمیت دیں کہ آپ کے قدموں کا فیض ہیں وہ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے شکر کو قبول کیا ہے جو یہ طاقتیں آپ کو عطا کیں پھر ابھی سے ان کے لئے دعائیں شروع کریں اور ابھی سے جہاں جہاں یہ تجربے ہور ہے ہیں وہاں ان کی حفاظت کے، ان کی تربیت کے وہ سارے سامان کریں جو آپ کے دماغ میں آسکتے ہیں اور پوری کوشش کر دیکھیں کیونکہ ان لوگوں نے بڑی تیزی سے آگے بڑھنا ہے اور پھیلنا ہے۔جب یہ سیاست میں تبدیل ہوں گے تو بڑی نرم خو اور گداز پہلور رکھنے والی قومیں ہیں ان سے سیاست ابھرے گی تو بڑے خوفناک چہرے اس سے ظاہر ہوں گے۔پس میں آپ کو متنبہ کر رہا ہوں اور آئندہ صدی میں یہ باتیں جو میں کہہ رہا ہوں یہ وہاں بھی اثر انداز ہونے والی ہیں لیکن آئندہ جو دو تین ماہ رہ گئے ہیں ان کے حوالے سے میں آپ کو اب سمجھا تا ہوں کہ دیکھو ایسے ملک ہیں جہاں خدا کے فضل سے اس قسم کی رفتاروں میں تیزی آ رہی ہے ان ممالک میں سے بعض لوگوں نے ان ترقیات کو اپنی کوششوں کا نتیجہ سمجھا اور نئے آنے والوں نے اپنی کوششوں پر بناء کی ،مگر ان کو میں نے سمجھایا ، ان سے لمبی گفتگوئیں ہوئیں۔ایک ایسے ہی ملک کے نمائندے تھے جن کو میں بار بار یہ سمجھا تا رہا کہ دیکھیں آپ طاقتور ہیں مجھے پتا ہے مگر جب احمدیت قبول کر کے آپ ثابت قدمی دکھائیں گے تو یہ طاقتیں آپ کو کچھ بھی کام نہیں دیں گی مخالفت اور حسد کی لواٹھے گی اور آپ کو دبائے گی۔اس وقت صرف اللہ تعالیٰ پر اور اس کی قدرتوں پر انحصار اور یہ عزم آپ کے کام آئے گا کہ ہم نے اپنے مقصد سے نہیں ہٹنا اور دعائیں کام آئیں گی۔وہ ساری باتیں میری سنتے تھے اور چونکہ دنیا سے نکل کے آئے تھے، دنیا کی سیاستوں کے اپنی طرف سے مالک بنے بیٹھے تھے۔وہ جانتے تھے کہ سیاست کے سرچشموں پر ہم قابض لوگ