خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 386 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 386

خطبات طاہر جلد 16 386 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء مشکلات کی وجہ سے اس طرح ملتی ہیں کہ جب آپ ان سے نہیں ڈرتے اور اللہ کا خوف رکھتے ہیں تو اس خوف سے دشمنی کی بجائے فیض کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔آج ہماری سوال و جواب کی جوارد و مجلس تھی اس میں ایک دوست نے اسی قسم کا ایک سوال کیا اس کو میں نے سمجھایا۔میں نے کہا آپ یہ خیال دل سے نکال دیں کہ جماعت احمدیہ کی کوئی ایسی ترقی ہوگی کہ جس کے بعد یہ مشکلات ہٹ جائیں گی۔ترقی کے نتیجے میں ہماری آزمائشیں بڑھیں گی اور لازم ہے کہ ہم ان آزمائشوں پر اس طرح پورے اتریں کہ ہمارے سر مزید جھکتے چلے جائیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور یہ اقرار کرنے لگیں کہ آج جو تو نے ہمیں ترقی کی جزاء دی ہے ہم اس پر تیرا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ہم ان طاقتوں کا احترام تو کرتے ہیں کیونکہ تیری بناء پر ہمیں ملی ہیں لیکن ان پر بناء نہیں کرتے۔بناء تجھ پر ہے۔اگر یہ کریں گے تو خدا کا یہ قانون آپ کے حق میں لازماً جاری ہوگا۔لہن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم: 8) که یا درکھوا گرتم میرا شکر یہ ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں بڑھاؤں گا۔ان صاحب کا سوال تو اس طرح ہوا تھا کہ اتنے خدا کے فضل ہورہے ہیں اب پتا نہیں ہم شکر ادا کرتے بھی ہیں کہ نہیں۔ہم کیسے اپنے آپ کو شکر پر آمادہ کریں۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کیا بات کر رہے ہیں آپ شکر نہ کرتے تو یہ ترقیات کیسے نصیب ہوتیں کیونکہ قرآن کریم کی اس آیت نے یہ سمجھایا ہے کہ تم اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں ترقیات دوں گا اگر ترقیات دے رہا ہے تو لازماً شکر کرتے ہو۔پس آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا فیض ایک سمندر کی لہروں کی طرح اٹھا ہے اور سارے جزیرہ عرب کو اس میں غرق کر دیا یہ حضرت محمد رسول اللہ اللہ کا شکر تھا ، ساری ساری رات آپ کھڑے ہو کر خدا کا شکر ادا کرتے تھے۔آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے اور جتنے فضل بڑھتے تھے اتنا شکر اور بڑھتا چلا جاتا تھا۔تو خدا نے تو دکھا دیا کہ ایک شکر کرنے والا بندہ تھا۔ایک بندے کے شکر نے اتنے فیض عطا کئے تھے لیکن اس کے شکر کا فیض ہے جو آج ہم کھا رہے ہیں اور اسی کے شکر کا فیض ہے جس نے ہمیں شکر کے سلیقے بخشے۔صلى اللهر پس یہ یقین کر کے اس راہ پر آگے بڑھیں کہ حضرت محمد مصطفی امت ہے خدا کے ایک ایسے شکر عروسة گزار بندے تھے کبھی کائنات نے ایسا شکر گزار بندہ نہیں دیکھا۔جتنی ترقیات عطا ہوئی ہیں اس شکر کو