خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 302 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 302

خطبات طاہر جلد 16 302 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء کیوں کہ ایک طرف تو بہ کا عزم ہے دوسری طرف گناہ کی ایک طبعی محبت ہے ان دونوں کے درمیان ایک جھگڑا شروع ہوا ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتا اور بالآخر زمین کی کشش اس کو واپس زمین کی طرف کھینچ لاتی ہے۔پس تو بہ کا جو ایک پہلو ہے کہ گناہ سے بچنے کا ارادہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنا اور اس کی طرف جھکنا یہ پہلو بظاہر پورا ہو جاتا ہے مگر فی الحقیقت یہ مستقلاً ایسے انسان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔متطھر میں جو مضمون ہے وہ یہ ہے کہ تو بہ کرتے ہی نیکی کی حرص لگ جائے اور پاک ہونے کی ایک بے قرار تمنادل میں تڑپنے لگے۔متطھر ہو جائے، ہر وقت یہ چاہے کہ اب میں پاک ہو جاؤں یہ پا کی کی تمنا انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے پر مجبور کرتی ہے اور بار بار اس کی طرف نظر اٹھا کر اس سے یہ تمنا واویلا کرتی ہے کہ اے اللہ ہم تیری خاطر ایک گناہ سے منہ موڑ چکے ہیں لیکن نیکی جب تک ہمارے بدن کا دائمی جزو نہ بن جائے ، جب تک ہم ان لوگوں میں شمار نہ ہوں جو تیرے نزدیک پاک ہیں اس وقت تک ہمیں چین نصیب نہیں ہو سکتا۔ایسی حالت میں تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ایسے پاک ہونے کی تمنار کھنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ محبت کرتا ہے اسے کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔پس اکثر انسان اس تجربے سے گزر چکے ہیں اور گزرتے رہتے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جن کو تو بہ کا خیال ہی نہیں آتا۔بعض گناہ ان کے وجود کا دائی حصہ بن جاتے ہیں۔بعض کمزوریاں ان کی سرشت ہو جاتی ہیں۔مثلاً بعض اگر نماز میں سست ہیں، روزے میں سست ہیں، جھوٹ کی عادت ہے، چالاکی سے کام لے کر اپنا فائدہ اٹھانا ہے یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی باتیں عام ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک بات بہت ہی بڑی بات ہے اور ایسی ہے جو انسان کو جہنم کے کنارے تک ہی نہیں، جہنم میں داخل کرنے کا موجب بن سکتی ہے اور ان چیزوں کی طرف سے انسان ایسا غافل رہتا ہے کہ کبھی آنکھ ہی نہیں کھلتی کہ میں کون ہوں اور کیا ہوں اور کیسی حالت میں زندگی بسر کر رہا ہوں۔اس کو خیال ہی نہیں آتا کہ میں وقت کے امام کے ہاتھ پر بیعت کر کے تو بہ کر چکا ہوں۔یعنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اپنے اسلام کا ایک عہد نو قائم کیا ہے جس کی رو سے گویا حقیقت میں میں حضرت رسول اللہ ﷺ کا غلا بن گیا اور آپ کے پیچھے چلنے والا ہو گیا۔