خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد 16 301 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء والسلام ہی نے فرمایا ہے: بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تو بہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور 66 طہارت شرط ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ : 115) یہ وہ مضمون ہے جس پر میں کچھ مزید یہاں ٹھہر کر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ فرمائی گئی اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ اللہ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے یا دوسرے لفظوں میں ان کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور ساتھ ہی فرمایا وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ اور وہ لوگ جو پاک ہونا چاہتے ہیں ان سے محبت کرتا ہے یہ دو الگ الگ باتیں نہیں۔دراصل تو بہ ہی کی تفصیل میں مزید یہ فرمایا گیا ہے۔تو بہ کا جو عام مفہوم ہے وہ یہ ہے کہ ایک گناہ سے انسان روگردانی کرلے ،اس سے منہ پھیر لے اور اللہ تعالیٰ سے کہے کہ مجھے معاف فرما دے اور تو بہ گو یا مکمل ہوگئی۔یہ آیت کریمہ صرف یہ بات بیان نہیں کرتی بلکہ یہ بیان فرماتی ہے کہ تو بہ کی پہچان یہ ہے، تو بہ کا پہلا پھل جو تو بہ کر نیوالے کو نصیب ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مطھر بن جاتا ہے۔مطھر کا مطلب یہ ہے کہ نیک ہونا چاہتا ہے، نیکی کی جستجو کرتا ہے، پاک ہونے کی طلب کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے مدد کے بغیر یہ نصیب نہیں ہوسکتا۔تو تو بہ کے ساتھ ہی مستطھر ہونا ایک لازمی شرط ہے۔کوئی شخص بھی جب ایک گناہ سے تو بہ کرتا ہے اگر وہ ساتھ متطهر نہ ہوتو ہمیشہ اس کو دوبارہ اس گناہ میں لوٹنے کا خطرہ درپیش ہوگا۔یہ ایک گہر انفسیاتی نکتہ ہے جس کی طرف اس آیت کریمہ نے اشارہ فرمایا ہے۔ہر انسان جو گناہ میں مبتلا رہتا ہے، رہ چکتا ہے یا اس نے گناہ سے مسلسل تعلق جوڑا ہوا ہے وہ جانتا ہے کہ تو بہ کرنے کی خواہش پیدا ہو بھی تو گناہ کی محبت اس کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے اور اس کی حالت منتظر کی نہیں ہوتی۔یعنی ایسے شخص کی نہیں کہ جو پاک ہونا چاہتا ہے بلکہ ایسے شخص کی ہوتی ہے جو گناہ کرنا چاہتا ہے اس کے باوجود تو بہ کر رہا ہے اور اکثر تو بہ کر نیوالوں کا یہی حال ہے کہ جس گناہ سے تو بہ کرتے ہیں اس کی محبت ان کے دل سے مٹتی نہیں ہے۔اس کی محبت مسلسل اس گناہ کی طرف انہیں کھینچ رہی ہوتی ہے اور تو بہ کرتے ہیں اپنی طبیعت کے خلاف اپنے مزاج کے خلاف اور ایسی توبہ جو ہے وہ ہمیشہ خطرے میں رہے گی۔کبھی بھی ایسی تو بہ کرنے والے کو ہمیشہ کا امن نصیب نہیں ہوسکتا۔