خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 303

303 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء خطبات طاہر جلد 16 یہ بیعت کی روح ہے جو تو بہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ہر بیعت کے ساتھ تو بہ کا لفظ آتا ہے۔پس تو بہ منہ سے تو ہو جائے مگر عملاً زندگی کے ہر جزو میں تو بہ سے بے اعتنائی ہو، یعنی خیال بھی نہ آئے کہ میں تو بہ کا محتاج ہوں، معلوم ہی نہ ہو کہ میرے اندر کیا کیا روگ بس رہے ہیں، یہ غفلت کی حالت ہے جو لا ز ما انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔پس سچی توبہ سے پہلے ایک بے داری کا دن ہے اور وہ بے داری کا دن ہے جس کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں۔کسی دن بے دار ہوں اور جیسے بے دار ہونے والا بعض دفعہ اگر دیر سے بے دار ہو تو ہڑ بڑا کر اٹھتا ہے۔کئی لوگ ہیں جنہوں نے دفتر جانا ہے، الارم لگائے ہوئے ہیں اور دیر تک سوتے رہے جب اٹھے تو اچانک جب نظر پڑی گھڑی کی طرف تو بہت تاخیر ہو چکی تھی۔گھبرا کر پھر وہ جس طرح ہڑ بڑا کے اٹھتے ہیں اس سے بہت زیادہ ہڑ بڑا کر اٹھنے کی تو بہ سے غافل لوگوں کو ضرورت ہے کیونکہ وہ تو اب بے شمار ذمہ داریوں کی ادائیگی میں اتنی دیر کر چکے ہیں کہ از سرنوان کا زندہ ہونا، از سرنوان کے نئے رنگ اختیار کرنا، از سرنوان کا اپنے اندر وہ انقلابی پاک تبدیلی کرنا جس کے بعد انہیں ایک خلق آخر عطا ہونی ہے یہ تو بہت محنت کا کام ہے، بہت لمبا کام اور بہت صبر طلب کام ہے۔تو اس لئے میں جب کہتا ہوں کہ انٹھیں اور بیدار ہوں تو میری مراد یہ ہے کہ اپنی اندرونی شخصیت کو دیکھنے کے لئے آنکھیں کھولیں یہی آپ کا اٹھنا ہے۔آنکھیں کھول کر دیکھیں تو سہی کہ آپ کے اندرکون بس رہا ہے اور کیا بس رہا ہے اور جب آپ آنکھیں کھولیں گے تو ہر منزل میں، ہر قدم پر آپ کو بہت خوفناک نظارے دکھائی دیں گے۔کہیں دنیا کا حریص نظر آئے گا آپ کو جو دنیا کے اموال کو اتنا عزیز رکھتا ہے کہ خدا کی راہ پر خرچ کرنے میں اس کو ہمیشہ تکلیف محسوس ہوتی ہے، خواہش ہی نہیں پیدا ہوتی۔کئی ایسے ہوں گے جن کو اس پہلو سے تو اطمینان ہوگا مگر اگلے موڑ پر جب مڑیں گے تو ان کا دل یہ دیکھ کر دہل جائے گا کہ مالی قربانی تو میں کر رہا ہوں مگر عبادت میں بالکل کو راہوں اور خدا تعالیٰ سے محبت کے ساتھ اس کی طرف جھکنے کے لئے جس عبادت کی ضرورت ہے، اس کا آغاز بھی نہیں کیا۔نماز پڑھتا بھی ہوں تو غفلت کی حالت میں، کھڑا ہوں ، جھکتا ہوں، کھڑا رہتا ہوں ،سجدے میں گرتا ہوں، بیٹھتا ہوں اور پھر بیٹھ کے سلام پھیر دیتا ہوں اور اس حالت سے نکلنے کو میں امن کی طرف لوٹنا سمجھتا ہوں۔مجھے قرار اس وقت