خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد 16 260 اس ضمن میں جب آپ نے زہر کی مثال دی تو ساتھ فرمایا: خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء اب سوال یہ ہے کہ زہر کیوں بنایا گیا؟ تو جواب یہ ہے کہ گو یہ زہر ہے مگر کشتہ کرنے سے حکم اکسیر کا رکھتا ہے۔“ اب زہر کو کشتہ کرنے کا جو مضمون ہے اس کے نتیجے میں جو فائدہ پہنچتا ہے یہ وہ بنیادی مضمون ہے جس کو کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے اور غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نفس انسانی کی اصلاح کے بہت سے رستے کھلیں گے اور بڑی وضاحت کے ساتھ آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم نے کس راہ پر قدم رکھنا ہے۔حکماء کا ایک طریق یہ ہے کہ زہر کو اتنا جلا دیتے ہیں اور ہر زہر کو جلانے کے الگ الگ طریقے مقرر ہیں، اتنا جلا دیتے ہیں کہ یہ بات قطعی اور یقینی ہو جائے کہ زہر اپنا بدائر نہیں دکھا سکتا لیکن ایک دھمکی سی دیتا ہے، ڈراتا ہے کہ میں یہ کرنے والا ہوں اور اس ڈر کے نتیجے میں انسانی دفاع بیدار ہو جاتا ہے اور جب انسانی دفاع بیدار ہوتا ہے تو نہ صرف یہ کہ اس زہر پر قابو پاتا ہے بلکہ اس زہر سے ملتی جلتی ہر قسم کی بیماریوں پر قابو پانے کی صلاحیت پا جاتا ہے اور یہ صلاحیت جو ہے پھر ہمیشہ اس کے مختلف مواقع پر کام آتی رہتی ہے۔زہر جس کو تریاق بنایا گیا ، جس کو کشتہ کیا گیا وہ تو وقتی طور پر دیا جاتا ہے اور پھر اپنا ایک اثر چھوڑ کر وہ اس مضمون سے الگ ہو جاتا ہے اس کی ضرورت ہمیشہ باقی نہیں رہتی مگر جو فائدہ پہنچا دیتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔پس جولوگ زہر کا تریاق کھاتے رہتے ہیں ان کے اندر زیادہ بڑے زہر کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھتی چلی جاتی ہے ، پس صلاحیت کا مطلب ہے اس کا اثر نہیں ہونے دیتے یعنی بدزہر اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہتا ہے۔یہ وہ لطیف اور باریک مضمون ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس ایک فقرے میں بیان فرمایا : مگر کشتہ کرنے سے حکم اکسیر کا رکھتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ گناہ سے تریاق کا فائدہ اٹھانا کیسے ممکن ہے۔سوائے اس کے ممکن نہیں کہ گناہ کو اتنا پیا جائے اور اس کی ایسی مخالفت کی جائے کہ اس کو اپنے نفس پر غلبے سے معذور کر دیا جائے۔اس کو اہل ہی نہ رہنے دیا جائے کہ وہ آپ کے نفس پر غلبہ پاسکے۔وہ تریاق ہے جو آپ کے کام آئے گا اور آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو بڑھائے گا اور یہی بچی تو بہ کا مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس ایک فقرے میں بیان فرما دیا۔