خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 261
خطبات طاہر جلد 16 پھر فرماتے ہیں: 261 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا اور وہ ہلاک ہو جاتا۔( ملفوظات جلد اول صفحه : 3) اب یہ دوسری دلیل ہے اور یہ بھی بہت توجہ سے سننے کے لائق اور سمجھنے کے لئے غور کی ضرورت ہے۔فرماتے ہیں اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا یعنی گناہ محض اس لئے نہیں ہے کہ تم اس کو کشتہ کرتے چلے جاؤ اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔اگر گناہ ہوتا ہی نہ تو پھر کشتہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔تو اس کا یہ دوسرا پہلو جو ہے اس کا جواب آپ نے دیا ہے جو بہت باریک ہے اسے غور سے سمجھنا چاہئے۔فرماتے ہیں اگر گناہ کا زہر نہ ہوتا تو رعونت کا زہر ضرور ہوتا اس لئے مفر ہی نہیں ہے تو رعونت سے بچانے کے لئے گناہ ضروری ہے۔اب اس عبارت کو اگر سرسری نظر سے آپ پڑھیں گے تو اس کے نتیجے میں بہت سے ایسے اعتراض اٹھ سکتے ہیں جو نا قابل حل ہوں گے۔اگر معصومیت تکبر پیدا کرتی ہے تو فرشتوں میں تکبر کیوں پیدا نہ ہوا۔انسان سے پہلے تو فرشتے تھے اور وہ معصوم تھے۔تکبر کا سب سے پہلا الحاق شیطان سے ہوا ہے جس کو قرآن نے کھول کر بیان فرمایا کہ وہ فرشتہ نہیں تھا وہ ایک ایسی مخلوق تھی جس میں بغاوت کا مادہ موجود تھا ، جو گناہ کی جڑ ہے جس سے باقی سب گناہ پھوٹتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”اگر گناہ نہ ہوتا تو رعونت کا زہر انسان میں بڑھ جاتا۔فرشتہ تو انسان ہے نہیں اس کے اندر معصومیت ان معنوں میں نہیں کہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا۔پس اگر گناہ کا وجود نہ ہوتا اور گناہ کی صلاحیت انسان میں موجود ہوتی تو پھر تکبر پیدا ہوتا۔پس شیطان نے جو پہلا گناہ کیا ہے وہ اس صلاحیت کی وجہ سے کیا ہے اور اس صلاحیت کا غلط استعمال ہوا۔اگر اس کا صحیح استعمال ہوتا تو شیطان بہت معزز ہو جاتا۔جس طرح انسان فرشتوں سے بھی آگے بڑھ گیا اسی اصول کے تابع شیطان بھی خدا سے جزا پاتا کیونکہ گناہ کی صلاحیت موجود تھی اس سے باز رہنا اور اس پر غلبہ پانا یہ اس کو نصیب نہیں ہو سکا اور وہ اندھا دھند اس کا شکار ہو گیا۔تو گناہ کا فلسفہ جو ہے وہ بہت باریک فلسفہ ہے اور اگر اسے نہ سمجھیں تو بہت سی عبارتیں ہیں جن سے انسان فائدے کی بجائے نقصان بھی اٹھا سکتا ہے۔