خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد 16 244 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء بائیں دیکھتا ہے، سیدھا اپنے خدا کی طرف نظر رکھے ہوئے بڑی بہادری کے ساتھ اس راہ پر چلتا ہے اور اس کی زندگی کا نقشہ ہے جو لا حول ولاقوۃ الا باللہ میں کھینچا گیا ہے اور ان شیطانی آوازوں سے بچنے کا طریق بھی قرآن کریم کی اس آیت نے ہمیں سمجھا دیا کہ دیکھو اپنی طاقت سے تم بچ نہیں سکو گے یہ دورد کرتے ہوئے آگے بڑھو، لا حول ولا قوۃ کوئی بھی خوف نہیں ہے۔ولا قوۃ اور کوئی طاقت نہیں ہے مجھے اچھا بنا دینے کی یا مجھے کچھ عطا کرنے کی الا باللہ اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے۔یہ اگر وردجان لے، اگر اس کا مضمون سمجھ آجائے اور انسان کامل یقین رکھے تو یہاں تو حید کی عبادت شروع ہوتی ہے۔توحید میں ایک نفی بھی ہے پھر مثبت بات ہے۔پہلے لا کا اقرار ہے کہ کوئی بھی نہیں مگر لا حول ولا قوة نے دو پہلوؤں سے تو حید کو روشن کر دیا۔ایک یہ کہ تمہیں جو خدا کے سوا کوئی نعمت کی بات عطا کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔نعمت وہی ہے جو خدا عطا کرے یا اس کے قوانین کے تابع تمہیں نصیب ہو۔اگر خدا کے سوا کوئی اپنے عذاب سے ڈراتا ہے جیسا کہ فرعون نے ڈرایا تھا جیسا کہ آج بھی خدا کے نام پر اس کے بھٹکے ہوئے بندے بعض دوسروں کو ڈراتے ہیں کہ اگر تم نے خدا کی آواز پر لبیک کہا تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا۔کہتے تو یہ ہیں کہ تمہاری آواز جس پر لبیک کہہ رہے ہو شیطان کی ہے مگر وہ خود شیطان ہوتے ہیں اور اسی طرح شیطان بھیس بدل بدل کر جیسا کہ قرآن فرما رہا ہے بعض دفعہ نصیحت کے رنگ میں بعض دفعہ دھمکانے کے رنگ میں نیکی کا لبادہ اوڑھ کر آتا ہے۔کہتا ہے اس راہ سے ہٹ جاؤ ورنہ بہت برا سلوک کیا جائے گا۔جو ڈر جائیں وہ وہیں پتھر ہو جاتے ہیں یعنی ان کا روحانی وجود ختم ہو جاتا ہے۔مگر نبی نہ صرف خود بیچ کر چلتا ہے اور ہمیشہ لا حول و لا قوة الا باللہ کا مضمون پیش نظر رکھتا ہے بلکہ یہ تو حید کا شہزادہ جب منزل تک جا پہنچتا ہے جہاں خدا اسے قبول فرما لیتا ہے تو جس پتھر پر پھونک مارے وہ پتھر جاگ اٹھتا ہے ، صدیوں کے مردے زندہ ہو جاتے ہیں۔تو دیکھو کیسا کہانی کے اندر ایک گہر اسبق موجود ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی ایک رؤیا ایسی ہی دیکھی تھی اور ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ورد کرتے ہوئے اپنے آپ کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھا اور ساری بلائیں غائب ہو گئیں۔ایک نظارہ میں نے خود بھی دیکھا بعینہ اسی قسم کا لیکن اس میں خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ نہیں بلکہ رب کل شئی خادمک رب فاحفظنا وانصرنا وارحمنا کی دعا تھی جس نے مجھے بچایا اور ساری منزل خدا کے فضل کے ساتھ خیر و عافیت سے طے ہوئی یعنی اردگرد کے خوف اور اردگرد