خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 245

خطبات طاہر جلد 16 کی حرص اور طمعیں کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں۔245 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء تو یہ ایک صرف رویا کا تجربہ نہیں عملی دنیا میں یہی ہوتا ہے۔پس کسی نہ کسی دعا کے سہارے آپ کو صراط مستقیم پر قائم رہنا ہو گا اس کے بغیر ناممکن ہے اور نبی جب ایک دفعہ صراط مستقیم عطا کر دے تو پھر بھٹکنے کا دوبارہ سامان غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ کا مضمون پھر چل پڑتا ہے۔تو یہ خیال کر لینا کہ میں نے اپنے مقصد کو پالیا اور میں مقام محفوظ پہ پہنچ چکا ہوں تو یہ محض وہم ہے، ایک دل کا دھوکہ ہے۔انبیاء کو اس لئے معصوم کہا جاتا ہے کہ انبیا تو اس سڑک پر چلتے ہوئے بھی خدا کی حفاظت میں اس طرح کلیہ لپیٹے جاتے ہیں گویا خدا کی گود میں آگئے۔بظاہر چلتے ہیں مگر خدا کی گود میں آگے بڑھتے ہیں۔یہ مقام معصوم ہے مگر ہر شخص کو یہ مقام نصیب نہیں ہوتا اور ہر شخص کے لئے جو نبیوں کی پیروی کرتا ہے اگر اس پیروی میں کوتاہی کرے تو یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ اس راہ پر چلتے ہوئے بھی وہ بالآخر مغضوب ہو جائے یعنی اس راہ کے تقاضے پورے نہ کر سکے یا ضالین ہو جائے دنیا کی لذتوں میں کھویا جائے اور راہ سے ہٹ جائے۔پس دونوں طریق وہی پتھر بنانے والے طریق ہیں اور شیطان کی عبادت کے مختلف نام رکھ دئے گئے ہیں کیونکہ ہے شیطان ہی کی عبادت، جب بھی صراط مستقیم سے آپ کسی خوف یا حرص کے نتیجے میں اپنے قدم ہٹا ئیں گے تو وہیں سے خدا کی عبادت ختم اور شیطان کی شروع۔اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھنے کے باوجود پھر کتنے ہیں جو ان آوازوں پر دھیان نہیں دیتے۔اب یہ جو سوال ہے اس کا جواب ہر شخص خود دے سکتا ہے اور ہر شخص اگر تقویٰ کا کوئی بھی شائبہ اپنے اندر رکھتا ہے تو جواب دے گا کہ ہاں بسا اوقات کئی دفعہ ظاہر طور پر کئی دفعہ مخفی طور پر لاعلمی میں میں شیطان کی آواز پر لبیک کہہ چکا ہوں اور اس راہ سے ہٹ چکا ہوں پھر واپسی کیسے ممکن ہوگی۔یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق میں آپ کو چند باتیں بتانا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے نبی ہی کا فیض ہوتا ہے کہ واپسی ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے انبیا و ان را ہوں کی باریکیوں سے خوب واقف ہوتے ہیں۔اس لئے وہ خوب کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے بھٹکی ہوئی جورا ہیں خود نہیں دیکھیں ان کو اس صفائی سے بیان فرماتے تھے کہ آدمی حیران رہ جاتا تھا۔گناہ کی باریک ترین راہوں کو بھی کھول کر روشن فرما دیا کرتے تھے کہ اس طرح