خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد 16 243 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء صراط مستقیم پر چلتا ہوا باہر کی آوازوں پر کان دھرتا ہے تو وہیں سے اس کے لئے روحانی لحاظ سے مرنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اور پتھر ہونے سے یہی مراد ہے اور جب وہ بھٹک جاتا ہے، اس راہ کو چھوڑ تا ہے تو اس کی روحانی زندگی وہیں ختم ہو جاتی ہے پھر وہ شیطان کا بندہ بن کر باقی زندگی بسر کرتا ہے۔یہ مضمون تو بالکل کھلا کھلا اور واضح ہے لیکن کہانیوں میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اکثر ہیں جو باوجود سمجھانے کے باوجود تاکید کے، باوجود بتانے کے کہ اتنا بڑا خطرہ درپیش ہے ڈرانے والی آوازوں کی کوئی بھی حقیقت نہیں، حرص و ہوا دے کر اپنی طرف بلانے والی آوازوں میں کچھ بھی جان نہیں وہ تمہیں کچھ بھی عطا نہیں کر سکیں گی اس لئے بالکل پرواہ نہیں کرنی، اس سمجھانے کے باوجود اکثر ہیں جو پتھر کے ہو جاتے ہیں۔تو سفر میں وہ شہزادہ جو کامیاب ہو کر آخر اپنے مقصد تک با مراد پہنچ جاتا ہے وہ رستے میں جگہ جگہ پتھروں کے لوگ دیکھتا ہے۔پتھروں کے بت بنے ہوئے ، کہیں پتھروں کی عورتیں ہیں، کہیں پتھروں کے مرد ہیں اور بالآخر جو زندگی پاتا ہے تو اس سے پتھر بھی زندہ ہو جاتے ہیں۔اب یہ کہانی دیکھو کتنی عجیب و غریب اور مصنوعی ہے لیکن نبوت کے مضمون پر کیسے صادق آتی ہے، حرف بحرف پوری اترتی ہے۔نبی کا زمانہ وہ ہے جب کہ سب دنیا ان آوازوں کی طرف کان دھرتی ہے، ان طمع کے مقامات کی طرف بڑھتی ہے جو اسے دکھائی دیتے ہیں۔سبز باغ دکھائی دیتے ہیں کہ یہاں آؤ یہاں تمہیں جنت ملے گی، یہاں عیش و عشرت کے سامان ہیں، تمہاری لذت کے سامان ہیں۔جب انسان ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے، ان تک پہنچتا ہے تو اس وقت اس کو سمجھ آتی ہے کہ یہ لذت تو عارضی سی چیز تھی اور ہر لذت کے ساتھ کوئی دکھ لگا ہوا ہے۔ہر لذت کے ساتھ جو اس قسم کی لذت ہے جو خدا کی عطا فرمودہ لذتوں سے باہر ہے کسی کی حق تلفی بھی ہے، کسی اور انسان کی جائیداد پر ہاتھ مارنے کے بغیر یہ جنت نہیں ملتی۔کسی اور شخص کے رشتے داروں اور عزیزوں پر ہاتھ ڈالے بغیر یہ جنت نہیں ملتی۔جب وہ ہاتھ ڈالتا ہے ایسی جنتوں پر تب اسے سمجھ آتی ہے کہ یہ جنت کسی نہ کسی کے لئے جہنم ضرور پیدا کرتی ہے اور بغیر جہنم پیدا کئے جنت ہو ہی نہیں سکتی اور کچھ دن کے بعد پھر جنت بھی مٹ جاتی ہے اور جنت والے کے لئے جہنم چھوڑ جاتی ہے۔کبھی بھی نیک انجام نہیں ہوتا۔تو یہ کہانی انبیاء کے وقت میں لفظاً لفظاً بعینہ پوری ہوتی ہے کوئی بھی اس میں شک نہیں۔ایک وجود ہے وہ ایک شہزادہ روحانی سلطنت کا جو خدا کا نبی ہوتا ہے وہ دائیں دیکھتا ہے نہ