خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد 16 242 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء بندے بن چکے ہوتے ہیں۔جب ہم خدا کے بندوں کی صفات پر غور کرتے ہیں جیسا کہ عِبَادُ الرَّحْمنِ کی صفات میں نے آپ کے سامنے کھول کے رکھی تھیں تو ہر شخص اگر اپنے آپ کو کرید کر دیکھے اور تقویٰ رکھتا ہو، کچھ بھی انصاف سے کام لے تو اسے ہر دفعہ اپنے ضمیر کو کریدنے پر ایسے نشان دکھائی دیں گے جو خدا کے بندے ہونے کے خلاف گواہی دیتے ہیں۔اگر کلیہ نہیں تو کہیں نہ کہیں ہر انسان کبھی شیطان کا بندہ بن چکا ہوتا ہے اور اکثر آدمی اکثر صورتوں میں خدا کے سوا شیطان ہی کی عبادت کرتے ہوئے زندگی بسر کر دیتے ہیں کیونکہ جب نفس کی عبادت کرتے ہیں وہ شیطان کی عبادت ہے۔جب خدا کے احکامات کے بالکل برعکس ایک اپنا طریق ڈھالتے ہیں تو وہ صراط مستقیم تو بہر حال نہیں اور اللہ کے بندوں کے متعلق یہ شرط ہے کہ وہ صراط مستقیم پر چلنے والے ہیں۔وہ جب صراط سے بھٹکے تو کسی آواز پہ بھٹکتے ہیں کسی اور منظر نے توجہ پھیری ہے اپنی طرف تب جا کے بھٹکتے ہیں ور نہ سیدھے راستے پر چلتا ہوا کون ہے جو اس سے الگ ہٹ کر قدم رکھ دے۔پس جہاں بھی غیر کی آواز سنائی دیتی ہے اور آپ اس پر توجہ دیتے ہیں وہی موقع ہے آپ کے شیطان کی غلامی کو قبول کرنے کا۔پرانے زمانے میں بعض کہانیاں ایسی ہوتی تھیں جو ہیں تو بظاہر ناممکن جنوں بھوتوں کی کہانیاں لیکن ان میں سبق ایسے ہوتے تھے جو سچائی کے سبق تھے۔آج کل کے زمانے میں تو سبق آموز کہانیوں کا رواج بھی مٹ چکا ہے۔اکثر کہانیاں وہ ہیں جو محض جہالت پیدا کرتی ہیں لیکن ایک زمانہ تھا جب انسان میں اعلیٰ قدروں کی پہچان تھی اور اعلیٰ قدروں کو زندہ رکھنے کی خواہش ہوا کرتی تھی اس لئے کہانیاں بنانے والے بھی ایسی کہانیاں بناتے تھے اگر ان میں ڈوب کر دیکھیں تو کوئی نہ کوئی سبق ان میں ملے گا۔ایک ان میں سے ایسی طرز کی کہانیاں تھیں جن کی طرز ایک ہی تھی اگر چہ کردار بدل جاتے تھے کہ انسان یا ایک شہزادے کو ایک مہم سر کرنی ہے مگر شرط یہ ہے کہ دائیں بائیں سے جو آواز میں آئیں گی ان سے متاثر ہو کر دائیں یا بائیں نہیں دیکھنا۔اپنے رستے سے ہٹنا نہیں ہے۔اگر رستے سے ہٹ گئے، اگر کسی حرص کی آواز پر لبیک کہ دیا ، یا کسی خوف دلانے والی آواز سے ڈر کر بدک گئے تو دونوں صورتوں میں تم وہیں پتھر کے ہو جاؤ گے۔اب یہ کہانی تو بظاہر ناممکنات کی کہانی ہے مگر مذہبی دنیا میں بعینہ یہی ہوتا ہے۔انسان جب