خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد 16 227 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ اللہ نے تمام دنیا کے لئے رحمت بنایا اور اس کے نتیجے میں دل ایسا نرم ہو گیا کہ دشمنوں کے لئے بھی وہ بے حد ملائم تھا تو اپنوں کے لئے رؤف و رحیم کیوں نہ بنتا۔پس یہ خیال غلط ہے کہ اس وجہ سے تو نرم ہو کہ یہ لوگ تجھے چھوڑ نہ جائیں دوسری جگہ آیات اس بات کو خوب کھول رہی ہیں کہ سارے بھی چھوڑ جائیں تو ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہیں۔جس کا خدا سہارا ہو اس کو کسی اور پر انحصار کی ضرورت کیا ہے۔مگر اس میں اشارہ ان کے لئے ضرور نصیحت ہے جو محمد رسول اللہ ہے کے مقام پر فائز نہیں ہیں اور جو بھی مقام ان کو ملتا ہے آپ کی غلامی سے ملتا ہے۔پس اس پہلو سے ان کے لئے دو نصیحتیں ہیں ایک یہ کہ رحمتہ للعالمین کے غلام ہو تو پھر تمہیں بھی رحمت کا نمونہ دکھانا ہوگا اور یا درکھنا کہ اگر دل کی سختی کے نتیجے میں یا کلام کی سختی کے نتیجے میں لوگ محمد رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ سکتے ہیں تو تم کس باغ کی مولی ہو تمہاری کیا حیثیت ہے تمہیں لازماً چھوڑ کر چلے جائیں گے اس لئے یہاں احتیاط کے طور پر یہ نصیحت ہے نہ کہ انحصار کے طور پر۔صلى الله فرمایا محمد رسول اللہ ﷺ کے اخلاق سیکھو، تو کل خدا پر رکھ مگر غلامی مد مصطفی میلہ کی اختیار کرو اور اس نمونے پر چلو تو از خود تم لوگوں کے لئے جاذب نظر ہو جاؤ گے، جاذب قلب و نظر ہو جاؤ گے۔ان کے دلوں کو بھی کھینچو گے ان کی نگاہوں کو بھی کھینچو گے اور شوریٰ کا تعلق مرکزیت سے ہے۔پس مجلس شوریٰ میں جن خاص صفات کی ضرورت ہے اس کے قیام کے لئے اس سے وابستہ مفادات کو ہمیشگی دینے کے لئے یہ مضمون ان صفات کی طرف اشارہ فرما رہا ہے۔پس اول تو وہی ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک محسن انسانیت کے طور پر جو صفات رکھتے تھے ان کی بے اختیار جلوہ گری تھی جس نے دلوں کو کھینچا ہوا تھا مگر ہرگز مقصد یہ نہیں تھا کہ اگر میں نرم نہ ہوا تو لوگ بھاگ جائیں گے اگر یہ مقصد ہو تو پھر ایسے اخلاق کی کوئی بھی قیمت نہیں ہوا کرتی پھر ایسے اخلاق دنیا کی نظر سے چھپا نہیں کرتے اور دنیا لازماً حقیقت کو جان لیتی ہے۔دیکھو آج کل جو ڈ یما کریسی کا دور ہے الیکشنز ہوتے ہیں تو بڑے بڑے لوگ اپنے علاقے کے جب یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ان کو ووٹ دیں تو کس طرح گر کر ان کے دروازے کھٹکھٹاتے ، ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، بڑا ہی حسن و احسان کا سلوک کرتے ہیں کہ ہم تو آپ کے خادم ہیں آپ کی خاطر مصیبت میں پڑے ہوئے ہیں، آپ ہمیں ووٹ دیں گے تو آپ کی خدمت کا موقع